خطبات محمود (جلد 37) — Page 402
$1956 402 خطبات محمود جلد نمبر 37 عیسائیوں نے دنیا میں قائم رہنا تھا۔لیکن مکہ کا مذہب اُس وقت تباہ ہو جانے والا تھا۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم مکہ والوں کی پروا نہ کرو تم یہ دعا کرو کہ ہم یہودی اور عیسائی نہ ہو جائیں کیونکہ انہوں نے قائم رہنا ہے۔میری اس تقریر کا ان لوگوں پر بڑا اثر ہوا اور بعد میں بھی وہ میرا شکر یہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس آئے۔غرض سورۃ فاتحہ اور اِھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ 3 کی اپنے اندر بڑی بھاری برکات رکھتی ہے اور جو شخص بھی التزام کے ساتھ یہ دعا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم نہیں رہتا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک غیر احمدی مولوی جو ہوشیار پور کا رہنے والا تھا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مرزا صاحب کی صداقت کا آپ قرآن سے کوئی ثبوت پیش کریں۔حدیث میں نہیں مانتا صرف قرآن کو تسلیم کرتا ہوں۔اس لیے آپ قرآن سے مرزا صاحب کی صداقت ثابت کریں۔میں نے کہا اگر میں کوئی آیت پیش کروں گا تو ممکن ہے اس سے آپ کی تسلی نہ ہو۔اس لیے آپ خود قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھ دیں میں اُسی سے حضرت مرزا صاحب کی صداقت ثابت کر دوں گا۔اس سے پہلے وہ یہ سوال اُٹھا چکا تھا کہ قرآن کریم کے ہوتے ہوئے مرزا صاحب کی کیا ضرورت ہے۔جب میں نے کہا کہ آپ قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھ دیں میں اُسی سے ثابت کر دوں گا کہ حضرت مرزا صاحب سچے ہیں تو اس نے سورۃ بقرہ کے دوسرے رکوع کی یہ آیت پڑھ دی کہ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ - يُخْدِعُونَ اللهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا ۚ وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ۔4 اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف منہ سے کہہ دینا کہ ہم ایمان لائے کافی نہیں ہوتا بلکہ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور یوم آخر پر ایمان لائے ہیں لیکن خدا کے نزدیک وہ مومن نہیں ہوتے۔وہ اپنے دعوی کے ذریعہ مومنوں کو اور اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔لیکن ان کے دھو کے کا نتیجہ ان کی اپنی جانوں کو ملتا ہے۔ان کے دلوں میں مرض ہے اور