خطبات محمود (جلد 37) — Page 355
355 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور خلیفہ اول کی اولاد کو سچا سمجھتا ہے۔خلیفہ اول تو خود خدا کے غلام تھے۔تجھے شرم نہیں آتی یانی کہ تو خدا کے مقابلہ میں کس کو پیش کر رہا ہے۔خدا کے مقابلہ میں تو مرزا صاحب کی بھی کوئی حیثیت نہیں، خدا کے مقابلہ میں تو نوح اور ابراہیم اور موسی کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔اگر وہ خواب خدا کی طرف سے تھی تو اے نالائق ! تو اب اسے رڈ کیوں کرنے لگا ہے اور کیوں اپنے کی خدا کے حکم کی خلاف ورزی کرنے لگا ہے؟ مجھے خوب یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت میں تین قسم کے آدمی پائے جاتے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جنہوں نے مولوی صاحب ( یعنی حضرت خلیفہ اول) کی وجہ سے مجھے مانا ہے وہ مولوی صاحب سے عقیدت رکھا کرتے تھے۔انہوں نے جب دیکھا کہ مولوی صاحب احمدی ہو گئے ہیں تو وہ بھی احمدی ہو گئے اور انہوں نے بیعت کر لی۔اور ایک وہ طبقہ ہے جو تعلیم یافتہ ہے۔اس نے جب دیکھا کہ ایک منظم جماعت موجود ہے تو اس نے کہا آؤ! ہم بھی اس جماعت میں داخل ہو جائیں تا کہ ان کی وجہ سے سکول اور کالج کھولے جائیں۔اور تیسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے میرے دلائل اور نشانات کو دیکھ کر میری صداقت کو تسلیم کیا ہے۔میں صرف ان لوگوں پر اعتبار کرتا ہوں جو میرے الہامات اور نشانات کو دیکھ کر مجھ پر ایمان لائے ہیں۔جنہوں نے مولوی صاحب کی وجہ سے مجھے مانا ہے وہ اگر مولوی صاحب کی کوئی ایسی بات دیکھیں گے جو انہیں ناپسند ہو گی تو ہو سکتا ہے کہ وہ مرتد ہو جائیں۔اسی طرح وہ لوگ جو اس لیے ہماری جماعت میں داخل ہوئے ہیں کہ یہ ایک منظم جماعت ہے، ہم مل کر سکول اور کالج کھولیں گے وہ جس دن یہ دیکھیں گے کہ میرے بچے متبع کسی حکمت کے ماتحت سکولوں اور کالجوں پر کسی اور چیز کو ترجیح دے رہے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ مرتد ہو جائیں۔میں صرف اُن کو ترجیح دیتا ہوں جو خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے میرے دلائل اور نشانات کو دیکھ کر مجھ پر ایمان لائے ہیں۔جو لوگ مولوی صاحب کی وجہ سے ایمان لائے ہیں اُن کا ایمان مولوی صاحب پر ہے مجھ پر نہیں۔جو لوگ یک تنظیم اور جتھا بندی کو دیکھ کر جماعت میں داخل ہوئے ہیں اُن کا ایمان بھی واسطے کا ایمان ہے اور مجھے واسطے کے ایمان کی ضرورت نہیں۔میں ایسے لوگوں کو اپنی جماعت میں نہیں سمجھتا۔