خطبات محمود (جلد 37) — Page 356
$1956 356 خطبات محمود جلد نمبر 37 میری جماعت میں سچے طور پر وہی لوگ داخل ہیں جنہوں نے خدا کے نشانوں کی وجہ سے اور اُس کی رضا کے لیے مجھے قبول کیا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت تک جن لوگوں نے اس فتنہ میں حصہ لیا ہے وہ نہایت ہی ذلیل اور گھٹیا قسم کے ہیں۔ایک بھی ایسی مثال نہیں پائی جاتی کہ جماعت کے صاحب علم اور تقوی اور صاحب کشوف لوگوں میں سے کوئی شخص فتنہ میں مبتلا ہوا ہو۔سارے کے سارے خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنے پاؤں پر کھڑے رہے ہیں۔صرف بعض ادنی قسم کے لوگ تھے جنہوں نے کہا کہ خلیفہ اول کی اولاد ایسا کہہ رہی ہے ہم کیا کریں؟ میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ بیالیس سال تک جو تم نے میری بیعت کی تھی تو کیا تم نے مجھے حضرت خلیفہ اول کی اولاد کی وجہ سے مانا تھا یا اُن دلائل اور بینات کی وجہ سے مانا تھا جو قرآن اور حدیث سے ظاہر ہوئے تھے؟ اور پھر یہ بھی حساب لگا لو کہ بیالیس سال پہلے حضرت خلیفہ اول کی اولاد کی عمریں کیا تھیں؟ کوئی آٹھ سال کا تھا، کوئی چھ سال کا اور کوئی چار سال کا۔جس عمر میں وہ کپڑے بھی نہیں بدلی سکتے تھے کجا یہ کہ دین کے متعلق فیصلہ کریں؟ تم نے مجھے مانا تھا تو اُن دلائل کی وجہ سے مانا تھا جو قرآن اور حدیث سے ظاہر ہوتے تھے۔پس اب کسی اور بناء پر شبہ میں مبتلا ہونا اپنی حماقت یا بے ایمانی کا ثبوت بہم پہنچانا ہے۔ایسے شخص کے متعلق ممکن ہے کہ آج سے پچاس سال بعد کسی احراری کے کہنے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دینے لگ جائے۔اُس وقت اُس کی اولاد یہی کہے گی کہ پچاس سال پہلے جن بینات سے مرزا صاحب کی صداقت ثابت ہوتی تھی آج بھی وہ قائم ہیں اور آج بھی انہی سے مرزا صاحب کی صداقت ثابت ہوتی ہے۔نہ ان دلائل کو کوئی احراری پہلے رڈ کر سکا تھا اور نہ اب رڈ کر سکتا ہے۔اخلاص اور ایمان تو وہ ہے جس کا اظہار ایک فوجی افسر نے کیا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ آپ خوامخواہ اس فتنہ سے گھبرا رہے ہیں میری تو یہ حالت ہے کہ اگر خلیفہ اول کی ساری اولاد اور سارے پیغامی مجھے سجدہ بھی کریں تو میں ان کی طرف دیکھوں بھی نہیں۔آپ ان کے کسی ایک بیٹے یا اس کے کسی بھکاری اور فقیر ساتھی کا نام لے رہے ہیں۔میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ اگر خلیفہ اول کی ساری اولاد اور سارے پیغامی مجھے سجدہ کریں اور مجھے اپنے عقیدہ سے پھرانا چاہیں تو میں ان کی طرف منہ