خطبات محمود (جلد 37) — Page 341
خطبات محمود جلد نمبر 37 341 $1956 نہیں تھا مجھے غیب کا علم ہے۔اگر کوئی یہ بات کہہ دے تو پھر سارے مسلمان خود اُسے جواب دے لیں گے ہمیں زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں اور ہم بھی اسے جواب دے لیں گے إِنْشَاءَ اللہ ورنہ ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ شخص جھوٹا ہے اور ایسا دعوی کر رہا ہے جو قرآن کریم کے خلاف ہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں یہ فرماتا ہے کہ کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی سوائے اس کے کہ میں اُسے بتاؤں کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ میں جسے چاہوں غیب پر اطلاع دے دیتا ہوں۔پس اگر وہ شخص یہ کہتا کہ مجھے الہاما بتایا گیا ہے کہ دوسال کے بعد مجھے اتنی طاقت حاصل ہو جائے گی کہ میں ربوہ جا کر مرزا ناصر احمد کو بازو سے پکڑ کر باہر نکال دوں گا تو ہم کہتے میاں! ہمیں تیرے اس الہام پر یقین نہیں۔تم اس کا ثبوت پیش کرو۔لیکن اگر وہ الہام کا لفظ نہیں بولتا اور دعوی پیش کرتا ہے تو ہم کہیں گے میاں ! ہم مجبور ہیں کہ تجھے جھوٹا کہیں۔تو خدائی کا دعوی کرتا ہے۔ہم دوسال تک انتظار کیوں کریں۔اگر تجھ میں طاقت ہے تو اب ربوہ میں آ کر دکھا دے اور یہ بات قرآن کریم کے فرمان کے عین مطابق ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی۔اگر کوئی شخص مستقبل کے متعلق دعوی کرتا ہے تو اسے کہہ دو تم جھوٹے ہو۔اگر یہ سچ ہے تو ابھی یہ بات کر دکھاؤ ہمیں اتنا لمبا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔مجھے خوب یاد ہے کہ ایک مولوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آیا اور کہنے لگا میں آپ کا کوئی نشان دیکھنے آیا ہوں۔آپ ہنس پڑے اور فرمایا میاں! تم میری کتاب حقیقۃ الوحی دیکھ لو تمہیں معلوم ہو گا کہ خدا تعالیٰ نے میری تائید میں کس قدر نشانات دکھائے ہیں۔تم نے اُن سے کیا فائدہ اُٹھایا ہے کہ اور نشان دیکھنے آئے ہو۔پس اگر اس شخص نے دومنٹ یا پانچ منٹ میں پوری ہونے والی دو چار پیشگوئیاں پیش کی ہوتیں تو ہم دو سال کیا اس کی دوسوسال والی پیشگوئی بھی مان لیتے اور کہتے جب ہم نے دو تین یا پانچ منٹ میں پوری ہونے والی پیشگوئیاں دیکھی ہیں تو یہ لمبے عرصہ والی پیشگوئی بھی ضرور پوری ہو گی۔لیکن اگر کوئی شخص اس قسم کی پیشگوئیاں دکھائے بغیر لمبے عرصہ والی پیشگوئی کرے تو ہم کہیں گے یہ بات عقل کے خلاف ہے۔