خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 320

خطبات محمود جلد نمبر 37 320 $1956 پارہ پارہ ہو گیا۔تم بتاؤ کہ کیا خدا تعالیٰ کی نگاہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کم عزت تھی اسی اور مرزا صاحب کی زیادہ عزت ہے؟ انہوں نے بھی اُس وقت یہی سمجھا تھا کہ اسلام کا خدا حافظ ہے اور انہوں نے فتنوں کا مقابلہ کرنے میں سُستی دکھائی مگر اس کا جو نتیجہ نکلا اُس پر ہر مسلمان آج تک خون کے آنسو بہاتا ہے۔دیکھ لو حضرت علیؓ نے گو ظاہر میں اس فتنہ میں حصہ نہیں لیا مگر فتنہ انگیزوں کا مقابلہ کرنے میں ان سے کچھ سستی ہوئی۔آخر حضرت عثمان مارے گئے تو اس کے بعد حضرت علیؓ بھی مارے گئے۔اور پھر حضرت حسنؓ کو معاویہ کے آگے اپنا سر جھکانا پڑا اور ان سے وظیفہ مانگنا پڑا۔پھر حضرت امام حسین شہید ہوئے اور اُن کے ساتھ اہلِ بیت کے اور بھی کئی افراد شہید ہوئے۔بیشک آخر میں حضرت علی نے بڑی قربانی کی تھی۔چنانچہ تاریخ میں لکھا ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ فتنہ بڑھتا چلا جا رہا ہے تو انہوں نے اپنے بیٹوں حضرت حسن اور حسین کو بلا کر کہا کہ تم جاؤ اور حضرت عثمان کے مکان کا پہرہ دو۔لیکن چونکہ وہ بچے تھے اُن سے غلطی یہ ہوئی کہ وہ آپ کے مکان کی دیوار کے ایک طرف پہرہ دیتے رہے اور حملہ آور دوسری طرف سے گود کر اندر آ گئے اور انہوں نے حضرت عثمان کو شہید کر دیا۔پس انہوں نے حضرت عثمان کی حفاظت کی کوشش تو کی مگر اس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔اس فتنہ کے متعلق بھی باہر سے جو خط آ رہے ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض تجربہ کار آدمی بھی اس شخص کے دھوکا میں آگئے تھے۔مثلاً یہاں کے مربی نے ہی لکھا کہ اُس نے جو کہا کہ میاں بشیر احمد صاحب اور عبد الوہاب کی چٹھیاں میرے پاس ہیں تو میں نے سمجھا کہ یہ کوئی مشتبہ آدمی نہیں۔حالانکہ وہ تو مربی ہے اور مربی کو بہت ہوشیار ہونا چا۔راولپنڈی سے وہاں کے قائد کی جو ایک نوجوان شخص ہے رپورٹ آئی ہے کہ جب یہ میرے پاس آیا تو اُسے دیکھتے ہی میں استغفار پڑھنے لگ گیا اور سمجھ گیا کہ یہ شیطان ہے جو میرے سامنے آیا ہے۔اس کے بعد وہ مجھے کہنے لگا کہ یہاں سے مری کو کوئی بسیں جاتی ہیں؟ میں نے کہا یہاں تو کئی اڈے ہیں اور بسیں آتی جاتی ہیں تم کسی اڈے پر چلے جاؤ تمہیں بس مل جائے گی۔اس پر وہ شور مچانے لگ گیا اور کہنے لگا کہ کیا مجھے اس کا علم نہیں تھا۔میں تو بڑ۔