خطبات محمود (جلد 37) — Page 321
$1956 321 خطبات محمود جلد نمبر 37 بڑے امیروں اور قائدوں کو دیکھتا پھرتا ہوں کہ ان کا عمل کیسا ہے اور وہ کہتے کیا ہیں اور کرتے کیا ہیں۔میں نے کہا اگر تم ایسے ہی نیک ہو تو سڑک پر بیٹھ جاؤ تمہیں آپ ہی لاری مل جائے گی۔غرض ایک بچہ سمجھ گیا کہ یہ فتنہ پرداز شخص ہے۔مگر یہاں کے مربی صاحب دھوکے میں آ گئے اور کہنے لگے اس نے یہ عذر کر دیا تھا وہ عذر کر دیا تھا۔اسی طرح آج ہی باہر سے ایک خط آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مردان پہنچا اور وہاں کے امیر نے اسے اپنے پاس ٹھہرا لیا۔ڈاکٹرمحمد دین صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے اسے دیکھ کر امیر صاحب سے کہا کہ یہ تو منافق ہے اور قادیان سے نکلا ہوا ہے آپ نے اسے کیوں جگہ دی ہے؟ وہ کہنے لگے مجھے تو معلوم نہیں تھا۔اس نے مجھے دھوکا دیا ہے۔میں نے کہا آپ امیر ہیں آپ کے دل میں خدا تعالیٰ نے ضرور کوئی خرابی دیکھی ہے جس کی وجہ سے آپ اس دھوکا میں مبتلا ہو گئے ہیں۔اسی طرح یہ کو ہاٹ گیا۔وہاں میاں بشیر احمد صاحب کا لڑکا ڈاکٹر مبشر احمد رہتا ہے۔یہ مبشر احمد کے پاس گیا اور کہنے لگا میں احمدی ہوں اور یہاں رات رہنا چاہتا ہوں پہلے تو مبشر احمد کے دل میں کچھ نرمی پیدا ہوئی اور انہوں نے چاہا کہ اسے جگہ دے دی جائے لیکن اُن کی بیوی جو میری بھانجی ہیں وہ کہتی ہیں میں نے اسے دیکھا تو میں نے کہا یہ تو بڑا خبیث آدمی نظر آتا ہے۔اسے جلدی یہاں سے نکالو۔پھر انہوں نے پوچھا کہ نام کیا ہے؟ اس نے کہا اللہ رکھا۔وہ کہنے لگیں کہ یہ تو قادیان سے نکالا ہوا ہے۔اسے کہو کہ فوراً یہاں سے چلا جائے۔چنانچہ انہوں نے اسے اپنے مکان سے نکال دیا۔اس پر وہ کہنے لگا دیکھ لیا ت مسیح موعود کی اولاد کو۔مجھے نہیں پتا تھا کہ ایک احمدی کے ٹھہرانے میں بھی اتنے بخل سے کام لیا جائے گا۔اب دیکھو! پہلے مبشر احمد کچھ نرم ہوا مگر پھر بیوی کے کہنے پر ہوشیار ہو گیا اور جب اس نے نام لیا تو وہ سمجھ گئیں اور انہوں نے کہا کہ اس خبیث کو یہاں سے جلدی نکالو۔اس کے بعد وہ چلا گیا اور اُس نے وہاں کے امیر جماعت کی معرفت انہیں گالیوں سے بھرا ہوا خط لکھا کہ مجھے پتا نہیں تھا مسیح موعود کی اولاد اتنی بے ایمان ہو چکی ہے۔میں تو یہاں احمدیوں کی خدمت کرنے کے لیے آیا تھا حالانکہ درحقیقت وہ احمدیوں کی