خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 291

خطبات محمود جلد نمبر 37 291 $1956 اگر نہیں ملا تھا اور جیسا کہ وزیر اعظم نے کہا ہے وہ اُن سے نہیں ملا تو اس میں غلط فہمی کی کونسی بات ہو گئی۔غلط فہمی تو تب ہوتی جب مثلاً اُسے اُن کی شکل کے متعلق طبہ پڑ جاتا۔وہ کسی کی اور شخص سے جا کر ملتا اور اُسے غلط فہمی ہو جاتی کہ میں چودھری محمد علی صاحب سے ملا ہوں جب وہ چودھری محمد علی صاحب سے ملا ہی نہیں اور جب انہوں نے نوائے وقت کے نمائندہ سے کوئی بات ہی نہیں کی تو اسے غلط فہمی کس بات میں ہو گئی۔تو نبی خواہ کتنا بڑا ہو اُس کے معجزات کے متعلق انسان کو کچھ نہ کچھ شبہ ہو سکتا ہے مگر اپنے متعلق اسے کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔چنانچہ دیکھ لو حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کتنے بڑے نبی ہوئے ہیں اور انہوں نے کتنے بڑے معجزات دکھائے ہیں مگر قرآن کریم بتاتا ہے کہ جب بھی کفار نشانات کا ذکر سنتے وہ یہی کہا کرتے تھے کہ اِن هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ 2- یہ تو وہی کہانیاں ہیں جو ہم۔اپنے باپ دادا سے سنی ہوئی ہیں۔ہمیں کیا پتا کہ یہ درست بھی ہیں یا نہیں۔لیکن درحقیقت یہ ان کی بے عقلی کی بات ہوتی ہے کیونکہ جب انہیں یہ کہا جائے کہ تم خدا تعالیٰ کے کلام پر ایمان لاؤ تو وہ کہتے ہیں ہم تو اپنے ماں باپ کے طریق کو نہیں چھوڑ سکتے اور جب ان کے سامنے خدا تعالیٰ کی آیات اور اس کے نشانات پیش کیے جائیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا بھی ایسی ہی باتیں کیا کرتے تھے اور اس طرح وہ اُن نشانات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔لیکن اگر نوح اور ابراہیم اور موسیقی اور عیسی سے ہزارویں حصہ کے برابر بھی ان کو خوابیں آ جاتیں تو کیا وہ انہیں جھوٹا کہہ سکتے تھے؟ وہ کہتے ہم نے خود خواہیں دیکھی ہیں یہ جھوٹ کس طرح ہوسکتی ہیں۔صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کو دیکھ لو انہوں نے جب احمدیت قبول کی اور وہ قادیان میں کچھ عرصہ ٹھہر نے کے بعد کا بل واپس گئے تو وہاں کے گورنر نے انہیں بلایا اور کہا کہ تو بہ کر لو۔انہوں نے کہا میں تو بہ کس طرح کروں جب میں قادیان سے چلا تھا تو اُسی وقت میں نے رویا میں دیکھا تھا کہ مجھے ہتھکڑیاں پڑی ہوئی ہیں۔پس جب مجھے خدا نے کہا تھا کہ تمہیں اس راہ میں ہتھکڑیاں پہنی پڑیں گی تو اب میں ان ہتھکڑیوں کو اُتروانے کی