خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 290

$1956 290 خطبات محمود جلد نمبر 37 بہت زیادہ ہے ہم ان کے معجزات کو بڑے معجزات کہتے ہیں لیکن حقیقتا وہ نشان جو اللہ تعالیٰ ہمیں براہ راست دکھاتا ہے اور جس کا ہم اپنی ذات میں مشاہدہ کرتے ہیں وہ ہمارے نقطہ نگاہ سے زیادہ شاندار ہوتا ہے کیونکہ ہمیں اپنی خوابوں یا کشوف یا الہامات کے متعلق کوئی شبہ نہیں ہو سکتا مگر دوسروں کے متعلق شبہ ہو سکتا ہے کہ شاید اس کا کوئی حصہ راوی بھول گیا ہو۔یا اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی اشتہار کا حوالہ دیا ہو اور اس میں اپنے کسی نشان کا ذکر کیا ہو تو کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ وہ اشتہار میرے پاس نہیں۔معلوم نہیں اس میں وہ بات درج بھی ہے یا نہیں۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک مشہور کشف ہے جس میں میاں عبداللہ صاحب سنوری کے کپڑوں پر سرخی کے چھینٹے گرے تھے۔اب خواہ یہ کتنا بڑا معجزہ ہو دوسرے کے دل میں شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ کہیں میاں عبداللہ صاحب ستوری نے جھوٹ نہ بولا ہو یا سرخی کے یہ چھینٹے کسی اور وجہ سے پڑ گئے ہوں اور انہوں نے اپنے پیر کی طرف منسوب کر دیا ہو۔پس دوسروں کے معجزات خواہ کتنے بڑے ہوں انسان کو ان کے متعلق شبہ ہو سکتا ہے لیکن جو نشان اپنی ذات میں ظاہر ہوتا ہے اس کے متعلق کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔دوسرے کے متعلق تو کہ سکتا ہے کہ ممکن ہے اس نے جھوٹ بولا ہو مگر اپنے متعلق وہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ شاید میں نے جھوٹ بولا ہو۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے انسان اپنے متعلق شبہ کرنے لگے کہ میرا وجود کوئی نہیں یا یہ خیال کرنے لگے کہ میں کوئی اور آدمی ہوں۔جس طرح اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا اسی طرح وہ خواب جو انسان نے خود دیکھا ہو یا وہ نشان جو خود اس کی ذات میں ظاہر ہوا ہو اس کے متعلق وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ شاید وہ جھوٹا ہو یا شاید اس کے متعلق مجھے کوئی غلط فہمی ہو گئی ہو۔کل ہی ہم ہنس رہے تھے کہ ”نوائے وقت“ کے نمائندہ نے چودھری محمد علی صاحب وزیر اعظم پاکستان کی طرف منسوب کر کے کوئی بات کہی جس کی وزیر اعظم نے تردید کر دی مگر لطیفہ یہ ہے کہ نوائے وقت“ نے اس تردید کو شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہمارے نامہ نگار نے کہا ہے کہ اسے کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے حالانکہ اس میں غلط فہمی کا کیا سوال تھا۔صاف بات تھی کہ یا تو ”نوائے وقت“ کا نمائندہ چودھری محمد علی صاحب کو ملا تھا یا نہیں ملا تھا۔