خطبات محمود (جلد 37) — Page 269
طور 269 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 وہ اُس کی غیب سے مدد کرتا ہے۔میرے لیے یہ سخت صدمہ اور رنج کی بات تھی کہ تحریک جدید کے بیرونی مشنوں کے لیے ہمارے پاس کوئی خرچ نہیں رہا۔چنانچہ کچھ دن میں خطرناک طور بیمار رہا۔بلکہ ابھی تک طبیعت پوری طرح سنبھلی نہیں لیکن نشانِ الہی دیکھو کہ ادھر مجھے فکر پیدا ہوا اور اُدھر اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا میں لوگوں کے دلوں میں تحریک پیدا کرنی شروع کر دی۔جن میں احمدی بھی تھے اور غیر احمدی بھی تھے اور پاکستانی بھی تھے اور غیر پاکستانی بھی تھے۔کسی نے سو پیش کیا، کسی نے سواسو، کسی نے ڈیڑھ سو ، کسی نے اڑھائی سو پونڈ اور کسی نے غیر معین ر پر لکھ دیا کہ جتنے پونڈ آپ کہیں گے ہم جمع کر دیں گے۔آپ فکر نہ کریں۔دیکھو یہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا کیسا عظیم الشان ثبوت ہے کہ اُس نے آپ ہی آپ سامان پیدا کرنے شروع دیئے اور لوگوں کے دلوں میں اخلاص اور محبت کی ایک لہر پیدا کر دی ورنہ انسان کے اندر کیا طاقت ہے کہ وہ کچھ کر سکے۔ہمارے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ایک زندہ اور قادر خدا کا دامن پکڑنے کی توفیق مل گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ اپنے والد صاحب کا ایک قصہ سنایا کرتے تھے۔میاں بدرمحی الدین صاحب جو بٹالہ کے رہنے والے تھے ان کے والد جن کا نام غالباً پیر غلام محی الدین تھا ہمارے دادا کے بڑے دوست تھے۔اُس زمانہ میں کمشنر موجودہ زمانہ کے گورنر کی طرح سمجھا جاتا تھا اور وہ امرتسر میں اپنا دربار لگایا کرتا تھا۔جس میں علاقہ کے تمام بڑے بڑے رؤساء شامل ہوا کرتے تھے۔ایک دفعہ امرتسر میں دربار لگا تو ہمارے دادا کو بھی دعوت آئی اور چونکہ انہیں معلوم تھا کہ پیر غلام محی الدین صاحب بھی اس دربار میں شامل ہوں گے اس لیے وہ گھوڑے پر سوار ہو کر بٹالہ میں اُن کے مکان پر پہنچے۔وہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک غریب آدمی پیر غلام محی الدین صاحب کے پاس کھڑا ہے اور وہ اس سے کسی بات پر بحث کر رہے ہیں۔جب انہوں نے دادا صاحب کو دیکھا تو کہنے لگے مرزا صاحب! دیکھیے ! یہ میراثی کیسا بیوقوف ہے۔کمشنر صاحب کا دربار منعقد ہو رہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ وہاں جا کر کمشنر صاحب سے کہا جائے کہ گورنمنٹ نے اس کی چھپیں ایکٹر زمین ضبط کر لی ہے، یہ زمین