خطبات محمود (جلد 37) — Page 201
$1956 201 خطبات محمود جلد نمبر 37 رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی ہے؟ اس پر پھر وہی صحابی بولے کہ یا رَسُول اللہ ! میں حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا تم نہیں کوئی اور۔صحابہ پھر کہتے ہیں کہ ہم اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سن رہے تھے مگر سردی اتنی شدید تھی کہ ہمارے اندر جواب دینے کی ہمت نہیں تھی۔پھر تیسری بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی بات پوچھی اور اس صحابی نے پھر کہا کہ یا رَسُول اللہ ! میں حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا تم جاؤ اور دیکھو کہ دشمن کا کیا حال ہے۔وہ باہر گیا اور واپس آکر کہنے لگا کہ یا رَسُول اللہ ! وہاں تو دشمن کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔سب بھاگ گئے ہیں۔4 تو دیکھو ایک آدمی جو دشمنوں میں سے تھا اُس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی محبت پیدا کر دی اور اُس نے ایک ایسی تدبیر کی جس کے نتیجہ میں دشمنوں میں پھوٹ پڑ گئی۔ہمارے ہاں بھی فساد کے دنوں میں بعض لوگوں نے جو ہمارے دشمن تھے بڑی بڑی قربانیاں کر کے احمدیوں کو بچانے کی کوشش کی ہے جس سے پتا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کی فطرت کو پاکیزہ بنایا ہے یہ بالکل درست ہے۔انہی مخالفوں میں سے ایسے لوگ کھڑے ہو گئے جو احمدیوں کی جانیں بچانے کے لیے آگے آگئے۔اس سے پتا لگتا ہے کہ چاہے مذہبی یا سیاسی لیڈر لوگوں کو دھوکا دے کر اُن کی فطرت کو کتنا ہی مسخ کر دیں پھر بھی نیکی ضائع نہیں جاتی۔شکار پور (سندھ) سے اُنہی دنوں مجھے ایک پٹھان کا خط آیا جس میں اُس نے لکھا کہ میں دل سے احمدیت کی طرف مائل تھا مگر مجھے جرات نہیں ہوتی تھی کہ میں اس کا اظہار کروں۔اب پنجاب کے واقعات کی خبریں یہاں پہنچیں تو میں نے اپنے دل سے کہا کہ کمبخت ! تجھے ہمیشہ شہادت کی خواہش رہتی تھی اب خدا تعالیٰ نے ایک موقع پیدا کر دیا ہے۔اگر یہ موقع گزر گیا تو پھر تجھے کب شہادت نصیب ہو گی؟ پس اگر تو نے شہادت حاصل کرنی ہے تو آج ہی احمدیت کو قبول کر۔تا کہ اگر تیری قسمت میں شہادت ہو تو وہ تجھے مل جائے۔غرض اللہ تعالیٰ نے یہ ایک برکت رکھی ہوئی ہے کہ مومنوں کے دلوں کو وہ آپس میں جکڑ دیتا ہے اور مومنوں کے دلوں میں اپنے رسول کی محبت پیدا کر دیتا ہے۔میور اسلام کا شدید ترین دشمن ہے مگر وہ بھی مسلمانوں کی فدائیت اور ان کی