خطبات محمود (جلد 37) — Page 193
$1956 193 خطبات محمود جلد نمبر 37 یہ مرزا کہاں سے آگئے۔اس کے بعد وہ اپنے خاوند کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگی دیکھو! یہ مرزا بیٹھے ہیں۔پھر وہ بھی آ گیا اور مجھ سے ملا اور اُس سے باتیں شروع ہو گئیں۔اُس نے میرے توجہ دلانے پر اپنی گورنمنٹ کو لکھا کہ یہ ہمیں طعنہ دیتے ہیں کہ جب عیسائی مبلغ ہمارے ملک میں آ سکتے ہیں تو اسلامی مبلغ آپ کے ملک میں کیوں نہیں جا سکتے۔بہر حال اُسے اس بات کا احساس ہوا کہ یہ حکومت کی غلطی ہے اور اُس نے کوشش کی جس پر حکومت نے ہدایت دے دی کہ آئندہ احمدی مبلغوں کو نہ روکا جائے۔اس طرح اُس نے اسلام کی دانستہ یا نادانستہ ایسی خدمت کی جس کی وجہ سے ہمارے دل میں اُس کی بڑی قدر ہے۔اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے اور اُس کے اس فعل کو اسلام کی اشاعت کا موجب بنائے“۔خطبہ ثانیہ میں حضور نے فرمایا: نماز کے بعد میں چند جنازے پڑھاؤں گا۔پہلا جنازہ تو چودھری اللہ بخش صاحب ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ کا ہے جن کے متعلق ابھی میں نے خواب سنائی ہے۔یہ کرم الہی صاحب ظفر مبلغ سپین کے والد تھے۔دوسرا جنازہ ڈاکٹر پیر بخش صاحب کا ہے جو ڈاکٹر پیرزادہ گل حسن صاحب مانچسٹر کے والد تھے۔یہ سرطان کے مرض سے فوت ہوئے ہیں۔ان کا لڑکا ڈاکٹر پیزادہ گل حسن مانچسٹر میں ڈاکٹڑی پڑھ رہا ہے۔پیچھے ہی اُن کے والد فوت ہو گئے۔ان کا ایک اور لڑکا بھی ڈاکٹڑی پڑھ رہا ہے۔تیسرا جنازه سعیدہ بیگم صاحبہ شرقپور خورد ضلع شیخوپورہ کا ہے۔یہ چودھری عبدالکریم صاح شرقپور خورد کی لڑکی تھیں اور گاؤں میں صرف دو ہی احمدی تھے۔حکیم محمد صدیق صاحہ ان کے متعلق اطلاع بھجوائی ہے۔چوتھا جنازہ خواجہ غلام نبی صاحب سابق ایڈیٹر الفضل کا ہے۔کچھ عرصہ ہوا ان کے ایک بیٹے نے کسی غلط فہمی کی بناء پر مجھے لکھا کہ انہیں ربوہ آنے کی اجازت دی جائے۔ان پر فالج کا حملہ ہوا ہے۔میں نے اُسی وقت جواب لکھوایا کہ ان کو ربوہ میں آنے سے ہرگز کوئی روکنے والا نہیں۔بلکہ میں تو ان کے لیے مکان کا بھی انتظام کر دوں گا۔مگر اس کے بعد وہ انہیں