خطبات محمود (جلد 37) — Page 144
$1956 144 خطبات محمود جلد نمبر 37 دیکھ کہ کہنے والے نے کیا کہا ہے اور یہ نہ دیکھ کہ کہنے والا کون ہے۔اگر بات معقول ہے تو چاہے وہ کسی کے منہ سے نکلے معقول ہو گی اور اگر وہ غیر معقول ہے تو چاہے کسی کے منہ سے نکلے وہ غیر معقول ہو گی۔بظاہر یہ اصول بڑا اچھا معلوم ہوتا ہے لیکن قرآن کریم یہ ہدایت دیتا ہے کہ تم گواہی میں ہمیشہ یہ دیکھو کہ گواہ عادل ہو اور اُس کی سچائی مشہور ہو۔1 کیونکہ وہ شخص جس کی سچائی مشہور نہ ہو وہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے۔پس قرآن کریم کہتا ہے کہ تم صرف یہ نہ دیکھو کہ کوئی کیا کہہ رہا ہے۔بلکہ یہ بھی دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے اور آیا اس کی گواہی قبول بھی کی جاسکتی ہے یا نہیں۔پس یہ درست نہیں کہ صرف اُس بات کی طرف دیکھا جائے جو کہی جاتی ہے اور کہنے والے کی طرف نہ دیکھا جائے۔اگر ہم دیکھیں کہ کہنے والا کون ہے تو جھوٹ بولنے والے کو ہم پکڑ سکتے ہیں لیکن اگر ہم اُس کی طرف نہ دیکھیں تو ہم اُس کو پکڑ نہیں سکیں گے۔پس قرآن کریم نے گواہ کے لیے عدل کی شرط لگا کر اس مقولہ کو رڈ کر دیا ہے کہ تم یہ دیکھو کہ کوئی کیا کہتا ہے اور یہ نہ دیکھو کہ کہنے والا کون ہے۔ایک مشہور قضائی کا واقعہ ہے کہ کسی قاضی کے سامنے امام ابن تیمیہ کے خلاف ایک مقدمہ پیش ہوا۔امام ابنِ تیمیہ اُسے اتفاقاً ملنے چلے گئے۔وہ کہنے لگا اچھا ہوا آپ آ گئے۔میرے پاس آپ کے خلاف ایک مقدمہ آیا ہے اور اُس کے متعلق میں نے آپ کے خلاف جاری کر دیا ہے۔امام ابنِ تیمیہ نے فرمایا آپ کا اس مقدمہ میں میرے خلاف سمن جاری کرنا شرعاً جائز نہیں۔کیا آپ جانتے نہیں کہ میں کس قسم کا آدمی ہوں؟ اگر قرائن کو دیکھتے ہوئے آپ سمجھتے کہ یہ مقدمہ جائز طور پر دائر کیا گیا ہے تو آپ کو میرے نام سمن جاری کرنا کی چاہیے تھا لیکن اگر قرائن خلاف تھے تو آپ کو یہ حق حاصل نہیں تھا۔مثلاً کسی شخص کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہو۔پولیس اُسے پکڑ لے اور کہے تمہارے پاس یہ روپیہ کہاں سے آیا ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ تم نے کسی سے چُرایا ہے۔اور وہ کہے کہ میں نے روپیہ پھرایا نہیں بلکہ فلاں فقیر نے مجھے یہ روپیہ دیا ہے۔تو کوئی جاہل مجسٹریٹ ہی ہو گا جو اس فقیر کے نام سمن جاری کر دے۔سیدھی بات ہے کہ فقیر کے پاس روپیہ ہوتا ہی نہیں۔وہ دوسرے کو دے گا کہاں سے؟ اسی کے مطابق امام ابنِ تیمیہ نے اُس قاضی کو کہا کہ میں تمہارا دوست ہوں اور نم