خطبات محمود (جلد 37) — Page 118
خطبات محمود جلد نمبر 37 118 $1956 پس ماں باپ کی باتیں بڑا اثر پیدا کرتی ہیں اور اُن کی عدم توجہی کے نتیجہ میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔لیکن توجہ بھی اُسی وقت اثر کرتی ہے جب ماں باپ کو کسی عارضی جوش کے نتیجہ میں دین کی خدمت کا احساس نہ ہوا ہو بلکہ مستقل طور پر یہ فرض انہیں بے چین رکھتا ہو اور وہ ہمیشہ اپنی اولاد کو اس طرف توجہ دلاتے رہتے ہوں۔ورنہ جو ماں باپ صرف وقتی جوش کے نتیجہ میں اس طرف توجہ کرتے ہیں وہ بعد میں نہ صرف اپنے عہد پر قائم نہیں رہتے بلکہ اُن کی اولاد میں بھی دین کی خدمت کا احساس نہیں رہتا۔میں نے عموماً دیکھا ہے کہ جب کسی کا چھوٹا بچہ شدید بیمار ہو جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اے اللہ! تو اسے شفا دے دے۔اگر تُو اپنے فضل سے اُسے شفا دے دے گا تو میں اسے دین کی خدمت کے لیے وقف کر دوں گا۔مگر جب وہ بڑا ہو جاتا ہے تو انہیں یاد ہی نہیں رہتا کہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے کیا عہد کیا تھا اور وہ اسے دنیا کے کاموں پر لگا دیتے ہیں۔اسی طرح بعض والدین مجھے ملتے ہیں کہتے ہیں ہمارے سب بچے دین کے لیے وقف ہیں مگر جب وہ بچے جوان ہو جاتے ہیں تو انہیں دنیوی کاموں پر لگا دیتے ہیں۔میں شمار کرنے لگوں تو باوجود اس کے کہ بیماری کی وجہ سے میرا حافظہ کمزور ہو گیا ہے اب بھی میں بیس پچپیس آدمیوں کا نام لے سکتا ہوں جنہوں نے اپنے بچوں کو دین کی خدمت کے لیے وقف کیا تھا لیکن اب وہ سب کے سب دنیا کمانے میں لگے ہوئے ہیں اور انہیں یاد ہی نہیں آتا کہ کسی وقت انہوں نے اپنے سب بچوں کو دین کی خدمت کے لیے وقف کیا تھا۔پھر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہتے ہیں حضور! ہمارے دو بچے ہیں اور وہ دونوں وقف ہیں۔لیکن جب وہ بڑے ہو جاتے ہیں اور دین کی خدمت کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو اُن کا خط آ جاتا ہے کہ ہم نے اپنے دو بچوں کو وقف کیا تھا لیکن ان میں سے جو کچھ ہوشیار ہے وہ تو ہماری بات ہی نہیں مانتا۔اور جو ہوشیار نہیں وہ ہماری بات تو مانتا ہے لیکن چونکہ اس کی صحت کمزور ہے اس لیے اُس کی زندگی وقف کرنے کا بظاہر کوئی فائدہ نہیں۔پھر سالہا سال گزر جاتے ہیں نہ اُن کا ہوشیار لڑکا دین کی خدمت کے لیے آگے آتا ہے اور نہ کمزور کو دین کی خدمت میں لگایا جاتا ہے۔ان کا یہ طریق عمل ایسا ہی ہوتا ہے جیسے لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی پٹھان تھا۔وہ ایک