خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 117

$1956 117 خطبات محمود جلد نمبر 37۔بڑے ہو کر دین کی خدمت کرنی ہے وہ دینی ماحول سے الگ ہو کر بھی اس بات کو بھلاتے نہیں بلکہ اسے ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔چند دن ہوئے شیخو پورہ کے ایک افسر نے جنہوں نے بی۔سی۔جی کا کورس مکمل کیا ہوا ہے مجھے خط لکھا کہ میں دین کے لیے اپنی زندگی وقف کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا بہت اچھا! ہم غور کریں گے کہ آپ کی خدمات سے سلسلہ کس رنگ میں فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔لیکن آپ یہ بتائیں کہ آپ کا کس خاندان سے تعلق ہے؟ انہوں نے کہا آپ نے صوفی عبدالخالق صاحب جالندھر والوں کا نام سنا ہو گا۔میں نے کہا میں خوب جانتا ہوں۔وہ جالندھر کے مشہور پیر تھے اور ان کی ایک بیٹی قادیان آیا کرتی تھی۔انہوں نے کہا وہ میری والدہ ہی تھیں۔میرے نانا تو احمدیت کے سخت مخالف تھے لیکن میری والدہ نے آخری عمر میں احمدیت قبول کر لی تھی اور فوت ہونے کے بعد وہ بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئی ہیں۔پھر انہوں نے لکھا مجھے زندگی وقف کرنے کی تحریک اس لیے ہوئی ہے کہ جب میں پیدا ہوا تھا اُس وقت سے میری والدہ نے میرے کانوں میں یہ بات ڈالنی شروع کی تھی کہ میں نے تمہاری زندگی خدمت دین کے لیے وقف کرنی ہے۔میں چار پانچ سال کا ہی تھا کہ وہ فوت ہوگئیں لیکن اُن کی وہ بات میرے دل میں ایسی گڑی ہے کہ اب جبکہ میں بڑا ہو گیا ہوں میں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر لی ہے اور بی سی۔جی کا ڈپلومہ بھی حاصل کر لیا ہے۔میرے دل میں ہمیشہ یہ خلش رہتی ہے کہ میری والدہ نے تو یہ خواہش کی تھی کہ میں دین کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کروں لیکن میں دنیا کے کاموں میں مشغول ہوں۔انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اس بات کا ذکر اپنے والد سے بھی کیا تھا۔انہوں نے بھی کہا تھا کہ جب تمہاری والدہ کی یہ خواہش تھی کہ تم دین کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کرو تو تم زندگی وقف کر دو۔اب دیکھو! ماں فوت ہو گئی۔اُس کا بیٹا دوسرے ماحول میں چلا گیا۔اُس نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔بی سی۔جی کا ڈپلومہ حاصل کیا اور اب اُسے ایک اچھی ملازمت ملی ہوئی ہے۔لیکن پھر بھی اُس کے دل میں یہ جلن رہتی ہے کہ میری ماں کہتی تھی کہ میں نے تمہیں دین کی خدمت کے لیے وقف کرنا ہے لیکن میں دنیا کمانے میں لگا ہوا ہوں۔