خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 96

$1956 96 خطبات محمود جلد نمبر 37 پھر کسی وقت حاضر ہو جاؤں گا۔گو بعض لوگ غلطی سے آتے ہی ایسے وقت میں ہیں : تھکا ہوا ہوتا ہے اور وہ اُن کی طرف توجہ نہیں کر سکتا۔مثلاً اِسی لاہور کے سفر میں ایک دن کالج کے طلباء مجھ سے ملنے کے لیے آگئے۔جن کے سامنے مجھے تقریر کرنی پڑی۔پھر سی۔ایس پی کے کئی نوجوانوں سے گفتگو کرتا رہا اور اس قدر تھک گیا کہ مجھے آرام کی ضرورت محسوس ہوئی مگر ابھی میں فارغ ہی ہوا تھا کہ ایک نوجوان آ گیا اور اُس نے کہا کہ مجھے آپ سے ضروری کام ہے۔میں نے سمجھا کہ وہ سیڑھیوں میں ت کر لے گا۔مگر وہ میرے کمرے کے اندر پہنچ چکا تھا۔اُسے ہرڑ پوپو 4 بننے کا شوق ہے اور وہ اس سلسلہ میں بہت سے کاغذات اپنے ساتھ لایا تھا۔میں کمرہ میں گیا تو اُس نے کہا میں آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں اور اس کے بعد اس نے ہاتھ کی لکیروں کے متعلق گفتگو شروع کر دی اور مجھے کہنے لگا آپ یہ لکیر دیکھیں وہ لکیر دیکھیں۔میں نے کہا میری نظر کمزور ہے اور میں رات کو پڑھ نہیں سکتا مگر وہ پھر بھی یہی کہتا رہا کہ اچھا آپ یہ لکیر دیکھیں اور دیر تک ان کے متعلق باتیں کرتا رہا۔میں اُٹھنے لگا تو کہنے لگا میں تو آپ سے اس علم کے بارہ میں اپنی مشکلات حل کرانے آیا تھا۔میں نے کہا میں تو اس علم سے واقف ہی نہیں۔پھر اگر صحت اچھی ہوتی تو میں مطالعہ کر کے کچھ معلومات حاصل کر سکتا لیکن اب تو بیماری کی وجہ سے مطالعہ بھی نہیں کر سکتا۔اس پر وہ بڑا مایوس ہو کر کہنے لگا کہ پھر تو کچھ بھی نہ ہوا۔میں نے کہا پھر میں کیا کرسکتا ہوں اور میں معذرت کر کے آ گیا۔اسی طرح اگر تم بھی اپنے افسروں کے پاس جاؤ اور وہ کسی وقت توجہ سے کام نہ لیں تو گھبراؤ نہیں بلکہ کہو کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت آپ کو فرصت نہیں میں پھر کسی وقت آجاؤں گا۔بہر حال اس سے تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تمہارے افسروں کو اس بارہ میں کیا کیا مشکلات کی پیش آ رہی ہیں۔ایک دفعہ وکیل التبشیر صاحب نے مجھ سے کہا کہ مبلغین کی بیویاں اُن کے ساتھ جانی چاہیں۔اس سے اخراجات میں بہت کمی ہو جائے گی۔لیکن دوسرے سال جب کارکنوں کو تنخواہیں نہ ملیں تو میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ تو کہتے تھے کہ مبلغین کی بیویاں ساتھ بھجوانے سے اخراجات کی کمی ہو گی لیکن اب یہ حالت ہو گئی ہے کہ کارکنوں کو