خطبات محمود (جلد 37) — Page 79
1956ء 79 خطبات محمود جلد نمبر 37 لے لی۔ یہ زمین میں نے پچاس ہزار روپیہ میں خریدی تھی۔ میں نے وکیل اعلیٰ تحریک جدید کو کہا کہ میری طرف سے یہ زمین وقف ہے۔ چاہے تم اس سے فائدہ اُٹھاؤ یا اسے بیچ دو۔ پس ہماری جماعت میں ایسے قربانی کرنے والے لوگ پائے جاتے ہیں کہ جن کے مقابلہ میں اُس پارسی تاجر کی قربانی کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں اس قربانی کی توفیق دی ہے۔ مخالفین ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہم مرزا صاحب کو نَعُوذُ بِاللهِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے ۔ ہم تو خدا تعالیٰ کو سب سے بڑا سمجھتے ہیں ۔ اگر ہم مرزا صاحب کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا سمجھتے تو ہم انہیں سجدہ بھی کرتے لیکن ہم تو خدا تعالیٰ کے سوا کسی کے آگے سجدہ کرنا حرام سمجھتے ہیں۔ لیکن بہائیوں کی یہ حالت ہے کہ جب عباس آفندی امریکہ سے واپس آیا تو اُس نے لکھا ہے کہ میں سب سے پہلے بہاء اللہ کی قبر پر نماز پڑھنے گیا اور میں نے وہاں سجدہ کیا۔ اس قدر شرک میں ملوث ہوتے ہوئے یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم فیل ہو گیا ہے اور اس کی جگہ بہائیت نے لے لی ہے۔ حالانکہ قرآن کریم وہ کتاب ہے جس نے عرب سے بُت شکنی کا قلع قمع کر دیا تھا اور ان کے بڑے بڑے بت اس نے تڑوا دیئے تھے۔ لیکن بہائیوں نے دوبارہ بت پرستی شروع کر دی ہے۔ کون عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ قبر کی مٹی پر سجدہ کرنا کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول یاد کرو ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چچائیوں کی دکان کرتے تھے اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی دکان پر بٹھا دیا کرتے تھے۔ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام دکان پر بیٹھے تھے کہ ایک بوڑھا آیا اور اس نے کہا میں نے ایک بت خریدنا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا سارے بُت آپ کے سامنے پڑے ہیں، آپ ان میں سے کوئی پسند کر لیں۔ اس نے تمام بنوں پر نظر دوڑائی اور بالآخر ایک بت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا بیٹا ! وہ بُت لاؤ اور مجھے دو۔ وہ بُت اونچا پڑا ہوا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کسی بکس پر چڑھ کر اُس کو اُتارا اور پھر ہنس پڑے۔