خطبات محمود (جلد 37) — Page 57
$1956 57 خطبات محمود جلد نمبر 37 نکلتی ہے اور یہ کن لوگوں کی اخبار ہے، اس میں بڑی اچھی باتیں لکھی ہیں۔اور اکثر ایسا ہوتا کہ وہ ان سے پتا حاصل کر کے بیعت کا خط لکھ دیتا۔اسی طرح میں نے مولوی محمد عبد اللہ صاحب کا واقعہ سنایا تھا۔خود وہ بہت سادہ تھے اور زمیندار تھے۔ایک دفعہ میں نے جلسہ میں تقریر کی کہ جماعت کا ہر شخص سال میں ایک ایک حمدی بنائے۔اس کے بعد ملاقات کا وقت آیا تو مولوی محمد عبد اللہ صاحب نے مجھ سے کہا آپ نے تقریر میں ایک ایک احمدی بنانے کی تحریک کی تھی لیکن میں ایک احمدی نہیں بناؤں گا بلکہ ایک سو احمدی بناؤں گا۔میں نے کہا بہت اچھا! سال بھر کے بعد وہ دوسرے جلسہ پر آئے تو اُن کے ساتھ ایک آدمی تھا۔اُس کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے حضور ! دفتر سے دریافت فرمائیں نانوے احمدی میں پہلے بنا چکا ہوں اور اب یہ سواں احمدی ہے، اس کی بیعت قبول فرمائیں۔اب دیکھو! ایک سادہ زمیندار تو سال میں سوسو احمدی بناتا ہے اور مبلغ جو تنخواہ دار ان ہے اور پھر تنخواہ کم ہونے کا شاکی ہے سال میں صرف ایک احمدی بناتا ہے۔اگر یہی صورت رہی تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے صرف پاکستان کے لیے ہمیں آٹھ کروڑ مبلغین کی ضرورت ہوگی۔اور یہ آٹھ کروڑ ہم کہاں سے لائیں گے۔آج ہی ایک امریکن نوجوان کا خط آیا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ ہر ملک میں تبلیغ کے لیے وقسم کے آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو پاؤ نیر“ (Pioneer) ہوتے ہیں۔اور ایک وہ ہوتے ہیں جو تعلیم و تربیت کا کام کرتے ہیں۔ہمارے ملک میں ابھی ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو پاؤ نیر" یعنی ابتدائی طور پر زمین صاف کرنے والے ہوں۔جیسے مفتی محمد صادق صاحب تھے یا صوفی مطیع الرحمان صاحب تھے۔یہ لوگ احمدیت کے لیے کی زمین ہموار کرنے والے تھے۔پھر اُس نے لکھا کہ یہاں اس وقت رومن کیتھولک فرقہ کے لوگوں میں تبلیغ کا بڑا جوش پایا جاتا ہے۔ویسے پروٹسٹنٹ فرقہ کی تعداد زیادہ ہے۔لیکن کیتھولک عیسائی لوگوں کے دروازوں پر جاتے ہیں اور دروازے کھٹکھٹا کر پمفلٹ دے آتے ہیں اور اس مہم کے نتیجہ میں پچھلے چند مہینوں میں لاکھوں لوگ اس فرقہ میں داخل ہو گئے ہیں۔وہ لکھتا ہے کہ ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو آرام سے مسجد میں بیٹھ جائیں اور ہمیں کہیں آؤ اور