خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 50

$1956 50 50 خطبات محمود جلد نمبر 37 سیالکوٹ میں آپ کے شاگرد پائے جاتے تھے مگر اُن کا یہ حال تھا کہ وہ جب ہجرت کر کے قادیان آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک کمرہ میں پڑے رہتے تھے۔لنگر سے دو وقت کا کھانا آ جاتا تھا اور اُس پر گزارہ کرتے تھے۔کوئی تنخواہ نہیں لیتے تھے۔بعض دفعہ اُن کی حالت دیکھ کر کوئی دوست انہیں کوٹ اور دوسرے کپڑے بنا دیتے اور وہ پہن لیتے۔گویا بغیر کسی تنخواہ کے ساری عمر گزارہ کرتے رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرائیویٹ سیکرٹری بنے رہے۔اسلام کی ابتدائی تاریخ کو دیکھا جائے تو وہاں بھی ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو دنیا کو چھوڑ کر دین کے ہو گئے تھے۔اور عیسائیوں میں تو اب تک یہ نمونہ موجود ہے اور میں نے جماعت کے نوجوانوں سے یہی دریافت کیا تھا کہ اب وہ نمونہ کیوں قائم نہیں رہا۔میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے لوگوں کو صرف ان لوگوں سے نمونہ حاصل کرنا چاہیے جو سادہ ہیں اور دعائیں کرنا جانتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن سے مسلمانوں کا احیاء وابستہ ہے۔پرانے زمانہ کے بزرگوں میں سے مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کو لے لو۔انہیں کونسی تنخواہ ملتی فی لیکن اس کے باوجود انہوں نے دیوبند کا کالج بنایا۔اس کے مقابلہ میں ہمارے شاہدین میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اسکول بنائے ہیں؟ اگر وہ دیوبند جیسا اسکول نہیں بنا سکتے تو اس سے ہزارواں حصہ کم حیثیت کا اسکول ہی بنا دیں۔مگر ہمارے شاہدین میں اس قسم کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان لوگوں کی نظر پیسوں پر ہے اور مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کی نظر پیسوں پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ پر تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ اسلام کی تعلیم پھیلانے سے انہیں ثواب ملے گا اور خدا تعالیٰ کی رضا انہیں حاصل ہو گی۔اس کی وجہ سے خدا تعالیٰ خود ان کے گزارے کا سامان پیدا کر دیتا تھا۔حضرت خلیفة المسیح الاول ایک بزرگ کا واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ اُن کے پاس ایک شخص آیا اور اُس نے کہا کہ فلاں رئیس نے آپ کو نذرانہ بھیجا ہے اور اُس نے مثلاً تین سو روپیہ انہیں دیا انہوں نے کہا یہ میرا نذرانہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ قرض خواہ پاس کھڑا ہے اور اسے میں نے تین سو تیرہ روپے دینے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ نے مجھے کوئی رقم دینی ہے تھی تو وہ تین سو تیرہ روپے ہونی چاہیے تھی تین سو کیوں ہوئی۔اس نے گھبرا کر جیب میں