خطبات محمود (جلد 37) — Page 592
1956ء 592 خطبات محمود جلد نمبر 37 مکه بات ہے۔ میرا منشا یہ نہیں تھا کہ تم لوگ فتح کے بعد بھی وہاں کھڑے رہو۔ گویا اگر کوئی ناگوار واقعہ پیش نہ آتا تو ممکن تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اُن لوگوں کی ہی تائید کرتے جو ورہ چھوڑ کر نیچے آ گئے تھے مگر چونکہ یہ بات مستقبل سے تعلق رکھتی تھی اور کسی کو یہ پتا نہیں تھا کہ دشمن واپس لوٹے گا۔ اس لیے ماتحتوں نے غلطی کھائی ورنہ بظاہر فتح کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بھی یہ بات کہی جاتی تو ہو سکتا تھا کہ آپ اعتراض کرنے والوں کی بات کی ہی تصدیق کرتے اور فرماتے کہ یہ تو بیوقوفی کی بات ہے کہ دشمن بھاگ کر لہ بھی پہنچ جائے تب بھی تم وہیں کھڑے رہو۔ اس لیے میرے حکم کا یہ مطلب نہیں تھا کہ تم فتح ہونے کے بعد بھی وہیں کھڑے رہو۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ آیا کسی کو غیب کا علم تھا اور اسے معلوم تھا کہ کفار بھاگ کر مکہ پہنچ جائیں گے اور اسلامی لشکر فتح کے نقارے بجاتا ہوا مدینہ پہنچ جائے گا؟ یہ کسی کو بھی علم نہیں تھا۔ ہاں ! نظر یہ آ رہا تھا کہ دشمن بھاگا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو فتح ہو گئی ہے۔ مسلمان کفار کو مار رہے ہیں اور انہیں ٹوٹ رہے ہیں۔ اس نظارہ کو دیکھتے ہوئے رہے ہیں ۔ اس نے وڑہ سے اُتر آنے والوں کا قیاس بظاہر صحیح تھا اور اُن کے افسر کا قیاس بظاہر غلط تھا۔ مگر باوجود اس کے کہ اُن کے افسر کا قیاس بظاہر غلط تھا پھر بھی خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے افسر کی بات کیوں نہیں مانی؟ اور چونکہ انہوں نے اپنے افسر کی بات نہ مانی اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا دی اور مسلمانوں کی فتح کو ایک عارضی شکست میں بدل دیا۔ پس أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ کی آیت اپنے اندر ایک بہت بڑا سبق رکھتی ہے۔ اگر لوگ اس کا صحیح مفہوم سمجھ لیں تو وہ ہر جگہ آسانی کے ساتھ صحیح فیصلہ کر سکتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص لازمی طور پر صحیح نتیجہ نکال لے، وہ غلطی بھی کر سکتا ہے۔ مگر پھر بھی اگر نظام کو قائم رکھنا ہے تو امام کی بات ہی مانی جائے گی۔ اگر اس کی بات نہ مانی جائے تو وہی نتیجہ نکلے گا جو جنگِ اُحد میں نکلا۔ افسوس ہے کہ بعد میں بھی مسلمانوں نے اپنی نادانی سے اس سبق کو یاد نہ رکھا اور اپنے افسروں کی اطاعت کا صحیح نمونہ نہ دکھایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یا تو ساری دنیا مسلمانوں کے ماتحت تھی اور مسلمان حاکم تھے اور یا آج دنیا کے اکثر حصوں میں مسلمان محکومیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اگر یہ بات