خطبات محمود (جلد 37) — Page 587
1956ء 587 خطبات محمود جلد نمبر 37 منسوب کی۔ بہر حال وہ افسر کو اکیلا چھوڑ کر نیچے آ گئے ۔ حضرت خالد کی نظر دوڑتے ہوئے اس درہ پر پڑی۔ جب انہوں نے اسے خالی پایا تو انہوں نے حضرت عمرو بن العاص کو بلایا۔ دونوں جرنیلوں نے اپنے بھاگتے ہوئے دستوں کو پھر سنبھالا اور اسلامی لشکر کا بازو کاٹتے ہوئے پہاڑ پر چڑھ گئے۔ جب درّہ پر پہنچے تو افسر کے ساتھ صرف چند سپاہی تھے جو درہ کی حفاظت کے لیے کھڑے تھے باقی سپاہی نیچے جا چکے تھے۔ دشمن فوج نے ان پر حملہ کر کے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اس کے بعد پُشت پر سے اسلامی لشکر پر حملہ آور ہو گئے ۔ مسلمان سپاہی اُس وقت بکھرے ہوئے تھے۔ فوج کا ایک حصہ غنیمت کا مال جمع کر رہا تھا اور ایک حصہ دشمن فوج کا تعاقب کر رہا تھا اور مسلمان مطمئن تھے کہ درہ پر متعین دستہ کی وجہ سے اُن کی پشت محفوظ ہے۔ اس لیے جب اچانک حملہ ہوا تو منتشر اسلامی فوج مقابلہ کی تاب نہ لا کر بھاگ نکلی۔ صرف چند صحابہ دوڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد جمع ہو گئے اور دشمن نے اُس مقام پر جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے شدت کے ساتھ حملہ کر دیا جس کی وجہ سے آپ کی حفاظت کرنے والے صحابہ میں سے بڑی تعداد شہید ہو گئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی زخمی ہو گئے اور صحابہ کو یہ خیال پیدا ہو گیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ خبر مدینہ میں بھی جا پہنچی۔ اس پر عورتوں اور بچوں میں بھی سخت کرب پیدا ہو گیا اور وہ دیوانہ وار اُحد کی طرف دوڑ پڑے۔ یہ سارا نتیجه صرف پیغامیت کا تھا۔ اگر بعض لوگوں کے دلوں میں یہ پیغامی عقیدہ نہ ہوتا کہ ہم نے صرف معقول بات ماننی ہے تو مسلمانوں کو فتح کے بعد شکست نہ ہوتی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو تکلیف نہ پہنچتی۔ بہر حال درہ کی حفاظت کرنے والوں نے پیغامی عقیدہ کے ماتحت افسر کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ انہیں پتا نہیں تھا کہ معقول بات کونسی ہے۔ افسر کا حکم معقول ہے یا وہ بات جو وہ کہہ رہے ہیں وہ معقول ہے۔ کیونکہ یہ بات مستقبل کے متعلق تھی اور مستقبل کا علم نہ افسر کو تھا اور نہ ماتحت سپاہیوں کو ۔ اگر تم یہ کہو کہ امام اگر چوری کا حکم دے تو کیا پھر بھی اُس کی اطاعت کی جائے گی تو ہم کہتے ہیں کہ وہ امام ہی کب رہے گا جو یہ کہے کہ چوری کرو۔ آخر وہ ایسی ہی بات کہے گا جو اجتہادی ہو گی