خطبات محمود (جلد 37) — Page 586
$1956 586 خطبات محمود جلد نمبر 37 میں نصیب ہوئی اور کفار میدان سے بھاگ نکلے۔حضرت خالد اور حضرت عمرو بن العاص اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔جب کفار بھاگے اور مسلمان اُن کے پیچھے دوڑے تو درہ پر متعین سپاہیوں نے اپنے افسر سے کہا کہ اب تو دشمن کو شکست ہو چکی ہے اب ہمیں بھی جہاد حصہ لینے کا موقع دیا جائے۔افسر نے اُن کو اس بات سے روکا اور کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خواہ کچھ ہو جائے ہم مارے جائیں یا جیت جائیں تم نے اس جگہ سے نہیں ہلنا۔اس لیے میں تمہیں درہ چھوڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ ہم فتح کے بعد بھی اس جگہ سے نہ ہلیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تو یہ مطلب تھا کہ دشمن سے اس درہ کی حفاظت کی جائے۔لیکن اب تو دشمن بھاگ چکا ہے اور مسلمانوں کو فتح ہو چکی ہے اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم یہیں ٹھہرے رہیں۔افسر نے کہا تم جو چاہو کرو لیکن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی وجہ سے یہاں سے نہیں ہلوں گا۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ ماتحت سپاہی پیغامی قسم کے تھے۔انہوں نے خیال کیا کہ ہم تو معقول بات مانیں گے غیر معقول بات نہیں مانیں گے۔اگر افسر کی ہر بات کو مان لیا جائے تو یہ شرک ہو جاتا ہے۔اس وقت ہمارا افسر کہتا ہے کہ بیشک مسلمانوں کو فتح ہو گئی ہے اور کفار بھاگ گئے ہیں لیکن تم یہاں سے نہ ہلو۔یہ حکم معقول نہیں۔ہم اپنی عقل سے کام لیں گے اور جہاد میں حصہ لے کر ثواب حاصل کریں گے۔اب فیوچر (FUTURE) کو کون جان سکتا ہے۔حال کو تو ہر شخص جانتا ہے۔لیکن یہ بات مستقبل تعلق رکھتی تھی اور مستقبل کا علم نہ اُس افسر کو تھا اور نہ ماتحتوں کو۔دونوں فریق نہیں جانتے تھے کہ آئندہ کیا ہو گا لیکن افسر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی وجہ سے اس بات پر اصرار کر رہا تھا کہ اس جگہ سے نہ ہلا جائے اور ماتحت سپاہیوں کا خیال تھا کہ ہم تو صرف معروف میں اس کی اطاعت کریں گے اور معقول بات مانیں گے۔غیر معقول بات کی اطاعت نہیں کریں گے۔دشمن بھاگ چکا ہے اور مسلمان فوج کو فتح حاصل ہو چکی ہے۔اب یہاں ٹھہرنا غیر معقول بات ہے جسے ہم ماننے سے قاصر ہیں۔ہم جہاد میں حصہ لیں گے اور اس طرح ثواب حاصل کریں گے۔گویا انہوں نے اپنی طرف رحمانی اور افسر کی طرف شیطانی بات