خطبات محمود (جلد 37) — Page 554
$1956 554 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہمیشہ خدا تعالیٰ پر توکل رکھتے ہیں کسی انسان پر نہیں۔لیکن جماعت سے الگ ہونے والوں نے اپنے عمل سے ظاہر کر دیا ہے کہ وہ ہر طرف ہاتھ مارتے ہیں لیکن دوسری طرف یہ بھی ظاہر ہے کہ انہیں ملا کچھ نہیں۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل دینے والا خدا ہے۔جب یہ اُس سے منقطع ہو گئے تو خدا تعالیٰ نے بھی ان سے منہ پھیر لیا۔اور انہوں نے اپنا اندرونہ اس طرح ظاہر کر دیا کہ کبھی ہم سے مانگنے آ گئے اور کبھی غیروں کے پاس مانگنے چلے گئے۔لیکن نہ انہیں ہم سے کچھ ملا اور نہ غیروں سے۔گویا میراثی کی گائے کی طرح جو خواب میں اُسے ملی تھی اُس کی نہ تو ایک روپیہ قیمت ملی اور نہ اٹھتی ملی۔اب آنکھیں بند کر کے گجرات کی طرف ہاتھ بڑھا کر یہ لوگ کہیں گے کہ جمان اٹھتی ہی دے دو۔لیکن اٹھنی چھوڑ انہیں چونی بھی نہیں - گی۔بلکہ وہ تسلی رکھیں کہ چوٹی نہیں انہیں ایک آنہ بھی نہیں ملے گا۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر میں کہتا ہوں کہ ایک آنہ تو کیا انہیں دو پیسے بھی نہیں ملیں گے اور ان کی وہی مثال ہو گی کہ آں سو رانده و ازاں سو در مانده ادھر سے بھی گئے اور اُدھر سے بھی گئے نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کو بھی خفا کر لیا اور دنیا کی طرف جو نگاہ انہوں نے ڈالی تھی وہاں سے بھی کچھ نہ ملا۔انہی غلط امیدوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ تو بہ سے محروم ہو جائیں گے اور جب ان پر موت آئے گی تو اُس وقت افسوس سے کہیں گے کہ ہم نے خدا کو تو چھوڑا ہی تھا یہ لوگ جو کہتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان میں سے بھی کسی نے ہماری مدد نہ کی اور ہم یسے کے ویسے ہی ناکام و نامراد رہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت میں جب یہ لوگ تھے تو گو جماعت میں کوئی بڑا عہدہ انہیں نہیں ملا تھا لیکن بہر حال وہ کچھ تو تھے۔جماعت کے کچھ دوست ایسے تھے جن کے دل انہیں دیکھ کر اُچھلنے لگتے تھے اور انہیں دیکھ کر ان سے بغلگیر ہونے کے لیے آگے بڑھتے تھے مگر اب وہ بغلگیر ہونا بھی گیا اور وہ محبت اور پیار بھی گیا۔اب ایسے لوگ رہ گئے جو منہ سے