خطبات محمود (جلد 37) — Page 553
خطبات محمود جلد نمبر 37 553 $1956 ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ آئندہ جلسہ سالانہ پر اپنے پہلے سب لیکچراروں کو ختم کرو اور ان کی لکی جگہ ان لوگوں کو لیکچرار مقرر کر دو اور باہر کے مشن جو تمہارے ہیں ان کے حوالے کر دو۔ہالینڈ کا مشن تو خالصہ میاں محمد صاحب کا ہے۔دوکنگ کا مشن ان کے پاس ہے۔اگر چہ دو کنگ مشن کے مشنری انچارج نے اس بات سے انکار کر دیا ہے کہ اس مشن کا انجمن اشاعت اسلام سے کوئی تعلق ہے۔مگر انجمن اشاعت اسلام والے کہتے ہیں کہ ہمارا اس سے تعلق ہے اور وہ مشن ہمارا ہے۔بہر حال یہ مشن ان کے حوالے کر دو۔پھر پتا لگے کہ تمہاری اسٹیج ان لوگوں کی تائید میں آگئی ہے۔یا مولوی صدر الدین صاحب کو امارت سے برطرف کر دو اور اُن کی جگہ ان لوگوں میں سے کسی کو امیر مقرر کر دو تا کہ تم کہ سکو کہ دیکھ لو ہماری اسٹیج ان لوگوں کے قبضہ میں چلی گئی ہے۔لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا اُس وقت تک تمہاری ساری باتیں وہی ہیں جو مدینہ کے منافقوں نے یہودیوں سے کہی تھیں کہ لَبِنْ أُخْرِجُتُمْ لَنَخْرُ جَنَّ مَعَكُمْ وَلَا تُطِيعُ فِيْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا وَ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمُ اگر تم کو شہر سے نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ مل کر شہر سے نکلیں گے اور اگر تم سے قتال ہوئی تو ہم تمہارے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑیں گے۔کیونکہ منہ سے تو ان لوگوں نے بھی کہہ دیا ہے کہ ہمارا سب کچھ تمہارا ہے لیکن بات وہیں کی وہیں ہے۔منافقوں کو کچھ ملا نہیں۔ان کی مثال بالکل اس میراثی کی طرح ہے جس کا واقعہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ جمان نے اسے کہا اٹھنی لے لولیکن اُس نے دیا کچھ بھی نہیں۔پھر آنکھ کھلی تو اس نے جھٹ آنکھیں بند کر لیں اور ہاتھ بڑھا کر کہا اچھا اٹھتی ہی دے دو۔اسی طرح یہ لوگ بھی آنکھیں بند کر کے پیغام صلح کے مضمون نگار کو کہیں گے اچھا جتنا چندہ تم انجمن اشاعتِ اسلام کو دیتے ہو اتنا ہی ہمیں دے دو یا چلو اس سے آدھا ہی دے دو۔اور پھر دوکنگ مشن سارے کا سارا نہیں دیتے تو آدھا ہی دے دو۔یعنی ہمارا نام بھی اپنے ساتھ رکھ لو اور کہو یہ لوگ بھی ہمارے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔اور انجمن اشاعت اسلام میں اگر ساری تنظیم ہمیں نہیں دیتے تو چلو آدھی ممبریاں ہی ہمیں دے دو مگر وہ دیں گے کچھ نہیں۔حقیقت یہ سب بہانے ہیں جس سے ان لوگوں کے جھوٹا ہونے کا ثبوت مل جاتا ہے۔پس ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں خدا تعالیٰ نے یہ گر بتایا ہے کہ مومن