خطبات محمود (جلد 37) — Page 530
خطبات محمود جلد نمبر 37 دعائیں قبول کرنے کا ایک گر بتایا گیا ہے۔530 $1956 ہم قدم قدم پر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں“ کے معنے یہ ہیں کہ ہم اپنی زندگی کے ہر فعل کے وقت خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارا یہ فعل مبارک ہو جائے۔اب یہ سیدھی بات ہے کہ جو شخص اپنے ہر فعل کے وقت خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتا چلا جائے گا لا زما اُس کی دعائیں زیادہ قبول ہوں گی۔کیونکہ قدم قدم سے مراد چلنا تو ہو نہیں سکتا اس سے یہی مراد ہے کہ ہماری زندگی میں جو بھی نیا کام آتا ہے اس میں ہم خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خدا! تو ہم پر اپنی رحمت اور فضل نازل کر۔اور جو شخص اپنی زندگی کے ہر نئے کام میں خدا تعالیٰ سے دعا کرے گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کھانا کھاؤ تو بِسمِ اللهِ کہہ لو 1 کپڑا پہننے لگو تو بسم الله کہو، 2 کھانا کھا لو تو اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کہو ، 3 نیا کپڑا پہن لو تو الحَمدُ لِلهِ کہو 4 کہ خدا تعالیٰ نے یہ کپڑا مجھے پہنایا ہے۔گویا آپ نے بھی جی اس طرف توجہ دلائی ہے اور بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم خدا تعالیٰ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا موجب ہے۔اور ہر نئی نعمت کے ملنے پر اَلحَمدُ لِلہ کہنا بھی خدا تعالیٰ کو متوجہ کرنے کے مترادف ہے۔گویا ہم قدم قدم پر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں اور جب ہم اپنے ہر کام میں خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کریں گے تو لازمی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کہے گا کہ میرا یہ بندہ تو کوئی کام میری مدد کے بغیر نہیں کرنا چاہتا اور وہ لازماً اس کی مدد کرے گا۔پھر دوسرا فقرہ ہے اور اس کی رضا کی جستجو کرتے ہیں“ اس کو پہلے فقرہ کے ساتھ ملائیں تو اس کے یہ معنے ہو گئے کہ ہم ہر کام میں دیکھ لیتے ہیں کہ اس میں خدا تعالیٰ کی رضا ہے یا نہیں۔اور اگر ہر کام کے کرتے وقت انسان خدا تعالیٰ سے دعا کرے اور ہر کام کے متعلق یہ سوچے کہ اس میں خدا تعالیٰ کی رضا ہے یا نہیں تو سیدھی بات ہے کہ اس کی کامیابی اور اس کی دعاؤں کی قبولیت میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا کیونکہ جو شخص خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے کوئی کام کرے گا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ اُس کی مدد نہ کرے۔وہ تو خدا تعالیٰ کا کام ہو گیا۔بندے کا کام ہو تو خدا تعالیٰ کہہ بھی سکتا ہے کہ یہ