خطبات محمود (جلد 37) — Page 502
$1956 502 خطبات محمود جلد نمبر 37 1921ء کی چھپی ہوئی موجود ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ جو کچھ کہا گیا ہے وہ جھوٹ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بات نہیں کہی۔لیکن یہ جھوٹ کتنا سچا ہے کہ خدا تعالی کی باتوں کی طرح پورا ہو گیا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت جھوٹی نہیں بلکہ ایک کچی پیشگوئی تھی جو لفظاً لفظاً پوری ہو گئی ہے۔اگر اس کے پورا ہو جانے کے بعد بھی کوئی شخص کہتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے تو اُس کی مثال ویسی ہی ہو گی جیسے مشہور ہے کہ کوئی بُزدل آدمی ایک جنگ میں زخمی ہو گیا۔اُس کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔لیکن بُزدلی کی وجہ سے وہ ماننا نہیں چاہتا تھا کہ وہ واقع میں زخمی ہے۔وہ بھاگتا چلا جا رہا تھا اور زخم پر ہاتھ لگا کر کہتا جاتا تھا کہ یا اللہ ! یہ خواب ہی ہو۔یا اللہ ! یہ خواب ہی ہو۔اسی طرح گو یہ پیشگوئی پوری ہو گئی ہے۔لیکن آجکل کے منافق کہہ سکتے ہیں کہ خدا کرے یہ بات جھوٹ ہی ہو لیکن صرف اُن کے منہ سے کہہ دینے سے یہ جھوٹ کس طرح ہو سکتا ہے۔یہ ایک سچی پیشگوئی تھی جو بڑی شان سے پوری ہوئی ہے۔اس کے بعد اگرچہ میری طبیعت میں ابھی ضعف باقی ہے مگر میں جماعت کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پیغامی جماعت پہلے تو یہ کہا کرتی تھی کہ ہمارا اس فتنہ سے کوئی تعلق نہیں لیکن اب انگریزی کی یہ مثل کہ بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے۔ان پر پوری طرح صادق آ گئی ہے۔چنانچہ پیغام صلح کے ایک تازہ پرچہ میں گجرات کے ایک پیغامی وکیل کا ایک مضمون چھپا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ”ہم ربوہ میں نئی تحریک آزادی کے علمبرداروں کو عَلَى الْإِعْلان یہ تلقین کرتے ہیں کہ وہ اصلاح کے اس کام کو جاری رکھیں اور استقلال، عزم، اخلاص اور جوشِ ایمان سے باطل کے اثر دہا کو کچلنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ختم نبوت کے تم قائل ہو، تکفیر سے تم باز آ چکے ہو، تمہارے اور ہمارے درمیان اب صرف محمودیت کا ہی پردہ ہے اس کو بھی چاک چاک کر دو۔ہم ربوہ کے آزادی پسند عناصر کا خیر مقدم کرتے ہیں۔اس تحریک آزادی جو علماء ومبلغین ہیں وہ جو نہی محمودیت کے حصار سے آزاد ہوں ہمارے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔ہمارے ہاں ان کے لیے عزت کی جگہ ہے، تبلیغ کے لیے مواقع ہیں، تقریر کے لیے اسٹیج ہے، تبلیغ کے لیے تنظیم ہے۔آؤ ہم سب تفرقہ کو ملا کر ایک ہو جائیں۔3