خطبات محمود (جلد 37) — Page 482
$1956 482 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ وہاں ماہر طبیب بھی چلا جائے تو وہ اسے فقیر اور سپیرا سمجھتے ہیں اور اس سے نفرت کرتے غرض زمانہ کے حالات بدلنے کی وجہ سے اشاعت اسلام کا طریق بھی بدل گیا ہے۔اب تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ کا کام وہی شخص کر سکتا ہے جس کو جماعت کی طرف سے خرچ ملتا ہو۔اور یہ تبھی ہوسکتا ہے جبکہ وہ جماعت منظم ہو کیونکہ جماعت کا ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ اپنے کسی بیٹے کو اس کام کے لیے بھیجے اور اُس کا سارا خرچ خود برداشت کرے۔ہماری ساری جماعت جو دس لاکھ کے قریب ہے اس میں اگر کوئی ایسی مثال ملتی ہے تو وہ صرف میری ہے۔میں نے اپنے ایک بیٹے کو انڈونیشیا تبلیغ کے لیے بھیجا تھا اور جتنی دیر وہ وہاں رہا اُس کا سب خرچ میں ہی بھجواتا رہا۔اب بھی میرا ارادہ ہے کہ اگر آئندہ کسی ملک میں اپنا بیٹا اشاعت اسلام کے لیے بھیجوں تو اللہ تعالیٰ چاہے تو اُس کے سارے اخراجات بھی میں خود ہی ادا کروں۔لیکن ہر کوئی ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ دوسرے ممالک میں رہائش اور خورونوش کے اخراجات بہت زیادہ ہیں اور پاکستانی چونکہ غریب ہیں اس لیے وہ اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتے۔چار پانچ سو روپیہ ماہوار تنخواہ پانے والا شخص بھی اگر چاہے تو پچاس روپیہ ماہوار تک ہی دے سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔لیکن دوسرے ممالک میں اخراجات دو اڑھائی سو روپیہ ماہوار سے کم نہیں ہوتے اور اتنی رقم وہ اپنی تنخواہ سے نہیں بچا سکتا۔پھر جتنی زیادہ کسی کی تنخواہ ہو گی اتنے ہی اُس کے اخراجات بھی زیادہ ہوں گے۔ای اے سی اور دوسرے بڑے عہد یداروں کے اخراجات بھی بہت بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔بلکہ ہمارے ہاں تو یہ کیفیت ہے کہ عام طور پر جب بیٹا بڑا ہو جائے تو خیال کیا جاتا ہے کہ اب وہ کمائے اور ہماری امداد کرے۔غرض پرانے زمانہ اور موجودہ زمانہ میں بہت فرق ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیر کو تشریف لے جا رہے تھے۔نواب محمد علی خاں صاحب مرحوم بھی ساتھ تھے۔آپ نے بڑے تعجب سے فرمایا نواب صاحب! یہ کتنا اندھیر ہے کہ پہلے جو چوڑھا ہمارے ہاں کام کرتا تھا اُسے ہم چار آنہ ماہوار دیا کرتے تھے اور وہ خود اور اُس کا سارا ٹبر ہماری خدمت کیا کرتا تھا۔لیکن اب اس کی