خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 472

$1956 472 خطبات محمود جلد نمبر 37 اپنے زمانہ حکومت اور اقتدار میں انہوں نے بھی بنی نوع انسان کے فائدہ کے لیے کوششیں کیں اور صرف اپنی ذات اور اپنے ملک کے فائدہ کے لیے منصوبے نہ کیے تو اُن کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جائے گی اور ان کی عزت ہو گی اور ان کی حکومتیں بھی لمبی ہوتی جائیں گی۔لیکن اگر انہوں نے نفسانفسی سے کام لیا اور صرف اپنے ملکوں کا فائدہ سوچا تو دوسری قوموں کے دلوں میں ان کا بغض بڑھ جائے گا اور ان کی نفرت ترقی کر جائے گی۔غرض اس آیت میں آئندہ کے متعلق ایک پیشگوئی بھی آ گئی اور مسلمانوں کے فرائض بھی آ گئے کہ تمام بنی نوع انسان کو برابر سمجھو۔دیکھو! برابر سمجھنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کے دلوں میں محبت پیدا ہو جاتی ہے۔مثلاً احمدی ہیں ہم یہ نہیں مانتے کہ احمدی پوری طرح شریعت پر عمل کر رہے ہیں۔مگر یہ ضرور نظر آتا ہے کہ یہاں کوئی غیر ملک کا نومسلم آجائے تو ربوہ والوں کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور آنے والے بھی کہتے ہیں کہ یہ ہمیں اپنے بھائی معلوم ہوتے ہیں۔بھائی اسی لیے معلوم ہوتے ہیں کہ غیر ملکیوں کو دیکھ کر فوراً ان کا دل کھل جاتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم تمام بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کے لیے کھڑے کیے گئے ہیں۔اب اس وقت ساری دنیا میں تبلیغ ہو رہی ہے اور ہندوستان اور پاکستان دونوں ساری تبلیغ کا خرچ برداشت کر رہے ہیں۔اگر غیر ملکوں سے خرچ کے متعلق کہا جائے تو وہ کہتے ہیں ہمارے ملک میں جو مبلغ ہیں اُن کا خرچ تو ہم دینے کے لیے تیار ہیں باقی ملکوں کے لیے کیوں تکلیف اُٹھا ئیں؟ ہم انہیں آہستہ آہستہ سمجھا رہے ہیں اور آہستہ آہستہ وہ مانیں گے۔لیکن پاکستان اور ہندوستان نے پہلے سے ہی تبلیغ کا سارا بوجھ اُٹھایا ہوا ہے۔ان کی مثال ہے کی سی ہے یا بعض کہتے ہیں کہ ٹیری ایک جانور ہے وہ رات کو سوتے وقت ٹانگیں اونچی رکھتا ہے ہے اور سر نیچے رکھتا ہے۔کہانیوں والے جانوروں کی بولیاں بھی سمجھتے ہیں۔قرآن کریم نے تو کہا ہے کہ ہم نے جانوروں کی بولیاں حضرت سلیمان علیہ السلام کو سکھلائی تھیں 6 مگر ہماری کہانیوں والے کہتے ہیں کہ ہم نے بھی جانوروں کی بولیاں سیکھی ہوئی ہیں۔تو کہتے ہیں کسی نے ٹیٹری سے پوچھا کہ تو اپنی ٹانگیں اونچی کیوں رکھتی ہے؟ کہنے لگی اس لیے کہ اگر رات کو آسمان گر پڑا تو میں اسے اپنی ٹانگوں پر سنبھال لوں گی۔ہمارے احمدیوں کی مثال بھی