خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 469

$1956 469 خطبات محمود جلد نمبر 37 خدمت کرتے ہیں۔آج خدام الاحمدیہ کا اجتماع بھی ہے۔اس لیے میں انہیں اسی آیت کی طرف جو میں نے ابھی پڑھی ہے توجہ دلاتا ہوں۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ہر مسلمان خادم ہے۔ہم نے تنظیم قائم کرنے کے لیے نوجوانوں اور بوڑھوں کا فرق کر دیا ہے۔ورنہ درحقیقت تمام کے تمام مسلمان ہی قرآن کریم میں خدام بتائے گئے ہیں۔میں نے پچھلے سال اپنی تقریر میں بتایا تھا کہ خدام الاحمدیہ سے یہ مراد نہیں کہ احمدیوں کے خادم بلکہ خدام الاحمدیہ کا مطلب ہے کہ احمدیوں میں سے خادم۔یعنی ہیں تو یہ ساری دنیا کے خادم صرف احمدیوں کے م نہیں۔مگر احمد یوں میں سے اس گروہ نے اقرار کیا ہے کہ ہم ساری دنیا کی خدمت کریں گے۔تو در حقیقت ہم نے نوجوانوں کی تنظیم کا نام خدام الاحمد یہ رکھا ہے ورنہ یہ آیت بتاتی ہے کہ ہر مسلمان ہی اس کام کے لیے مقرر ہے۔اور پھر اس نے خدمت کا طریق بھی بتا دیا ہے کہ ہر انسان کو نیک باتوں کی نصیحت کی جائے ، بُری باتوں سے روکا جائے اور خدا تعالیٰ کے جو احکام ہیں اُن کی اتباع اور فرمانبرداری کرائی جائے۔یہی مسلمان قوم کو اس دنیا میں پیدا کرنے کی غرض ہے۔اگر مسلمان قوم کسی زمانہ میں یہ غرض پوری نہیں کرتی تو وہ كُنتُم خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کے دائرہ سے نکل جاتی ہے۔پھر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت نہیں رہتی بلکہ اپنے نفس کی امت ہو جائے گی یا علماء کی امت ہو جائے گی یا اپنے سرداروں اور بادشاہوں کی امت ہو جائے گی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے متعلق خدا تعالیٰ یہ صاف طور پر فرماتا ہے کہ وہ خیر امت ہے۔کیونکہ وہ تمام بنی نوع انسان کی خدمت کے لیے کھڑی کی گئی ہے۔جب تک وہ تمام بنی نوع انسان کی کی خدمت کرتی ہے اس وقت تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہے اور جب وہ اس خدمت کو چھوڑ دیتی ہے تو پھر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت نہیں رہتی بلکہ نے نفس کے تابع ہو جاتی ہے۔پھر آگے فرماتا ہے وَلَوْ آمَنَ اَهْلُ الْكِتَبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ یعنی اس وقت تو مسلمانوں کو غلبہ مل گیا ہے مگر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اہلِ کتاب کو دنیا میں غلبہ حاصل ہو جائے گا اور یہودیوں اور عیسائیوں کو حکومتیں مل جائیں گی۔پس فرماتا ہے وَلَوْ پنے