خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 455

$1956 455 خطبات محمود جلد نمبر 37 وہ بمنزلہ مرتد ہوتا ہے۔مرتد وہ اُس وقت کہلائے گا جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جھوٹا کہنے لگ جائے۔لیکن اگر کوئی شخص سُخطَةٌ لِدِينِہ نکلے تو ہمیں یقین ہے کہ اُس کے بعد سینکڑوں لوگ ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے۔بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں کے بدلہ میں بھی جو بمنزلہ مرتد ہوتے ہیں سینکڑوں لوگ احمدیت میں داخل ہو جاتے ہیں۔مثلاً پیغامیوں کو لے لو ہم انہیں مرتد نہیں کہتے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو کچھ کہتے ہیں ٹھیک ہے اور جب وہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو کچھ ں ٹھیک ہے تو ہم انہیں مرتد کیسے کہہ سکتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہیں گے کہ وہ بمنزلہ مرتد ہیں کیونکہ وہ بعض نظاموں کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم کیے ہیں تو ڑنا چاہتے ہیں۔لیکن اُن کے علیحدہ ہونے کے بعد بھی تم دیکھ لو جماعت کو خدا تعالیٰ نے کس قدر بڑھایا ہے۔حضرت خلیفہ اسح الاول کے زمانہ خلافت کے آخری جلسہ میں یہ لوگ بھی شامل تھے لیکن اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد گیارہ بارہ سو تھی لیکن اب جلسہ سالانہ کے موقع پر ساٹھ ستر ہزار لوگ آ جاتے ہیں بلکہ ہندوستان جس کو جماعت چھوڑ چکی ہے اُس میں قادیان کے سالانہ جلسہ پر بھی اُس جلسہ سے زیادہ لوگ ہوتے ہیں جو کہ حضرت خلیفہ اسی الاول کی زندگی کے آخری سال ہوا تھا۔پس دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے جماعت کو کس قدر بڑھا دیا۔ان میں سے ایک ایک کے جانے کے بعد خدا تعالیٰ نے جماعت کو پندرہ پندرہ ہیں ہیں آدمی دے دیئے اور پھر ابھی جماعت بڑھ رہی ہے۔کوئی بعید نہیں کہ کچھ عرصہ کے بعد جماعت اس قدر بڑھ جائے کہ موجودہ جماعت کو اس کے مقابلہ میں وہی نسبت ہو جو ریت کے ذروں کے سامنے ایک کنکر کو ہوتی ہے۔غرض اس قرآنی آیت نے مسئلہ ارتداد کو بالکل حل کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ مرتد کس کو کہتے ہیں اور سچا مومن کس کو کہتے ہیں۔کیونکہ اس آیت میں اعلان کیا گیا ہے کہ اگر جماعت مسلمہ سچے مومنوں پر مشتمل ہو اور کوئی شخص اُن میں سے واقعی مرتد ہو جائے تو فوراً اللہ تعالیٰ اُس کی جگہ پر ایک نئی قوم مسلمانوں میں داخل کر دے گا۔اگر کسی جماعت میں سے کوئی شخص سُخَطَةً لِدِينِہ نکل جائے اور جماعت میں پھر بھی تبلیغ کا جوش پیدا نہ ہو تو در حقیقت