خطبات محمود (جلد 37) — Page 434
$1956 434 خطبات محمود جلد نمبر 37 پہنچے گا۔اب ہم غور کرتے ہیں کہ کسی تعلیم کی اشاعت کو کیسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔سو ہمیں دنیا کی میں اس کے دو طریق نظر آتے ہیں۔ایک طریق تو یہ ہے کہ بعض دفعہ کسی تعلیم کی اشاعت پر دشمن کو غصہ آ جاتا ہے اور وہ اشاعت کرنے والے پر کوئی جسمانی حملہ کر دیتا اور اُسے نقصان پہنچا دیتا ہے۔اس نقطہ نگاہ سے جو آیت میں نے پڑھی ہے اُس میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے کہ آپ قرآن کریم کو پوری طرح پھیلائیں اور اس بات کی پروا نہ کریں کہ اس پر دشمن ناراض ہو جائے گا اور وہ آر آپ پر حملہ کر بیٹھے گا کیونکہ واللہ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اگر لوگ شرارت کر کے آپ پر حملہ کریں گے تو وہ خدا جس نے قرآن کریم کو اتارا ہے اُسے بھی غیرت آئے گی اور وہ ان کے مقابلہ میں آپ کی حفاظت کرے گا اور ان کی تدبیروں کو نا کام کر دے گا۔دوسرا طریق نقصان پہنچانے کا عملی رنگ میں ہوتا ہے یعنی اگر کوئی تعلیم پھیلائی جائے تو لوگ اُس پر اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں اور اس طرح اشاعت کرنے والے کی عزت اور اس کی شہرت کو صدمہ پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔اس نقطہ نگاہ سے بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اے ہمارے رسول ! آپ قرآن کریم کی خوب اشاعت کریں اور اس بات کی پروا نہ کریں کہ لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں۔بیشک لوگ اس تعلیم پر طرح طرح کے اعتراض کریں ہم نے ایسا انتظام کیا ہوا ہے کہ وہ تیری عزت اور تیری نیک نامی کو کوئی صدمہ نہیں پہنچا سکیں گے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کلام اللہ کی حفاظت کے کیا ذرائع ہوتے ہیں۔سو کلام اللہ کی حفاظت کا ایک ذریعہ تو یہ ہوتا ہے کہ اُس کے کامل مومن ہر زمانہ میں موجود رہتے ہیں اور جب بھی اُس پر کوئی اعتراض وارد ہو وہ اُس کو دور کر دیتے ہیں۔اور دوسرا ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ خود کلام اللہ کے اندر ایسی باتیں رکھ دی جاتی ہیں جو دشمن کے اعتراضات کو رڈ کرنے والی ہوتی ہیں اور اس طرح دشمن اپنی بات میں خود ہی پکڑا جاتا ہے۔وہ اگر کسی آیت پر اعتراض کرتا ہے تو خود وہی آیت یا دوسری آیات اُس کے اعتراض کو دور کر دیتی ہیں۔قرآن کریم ایک بہت بڑی چیز ہے۔وہ خدا تعالیٰ کا آخری کلام ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم