خطبات محمود (جلد 37) — Page 395
1956ء 395 خطبات محمود جلد نمبر 37 ذاتی سڑکیں ہیں میں نے ایک بڑی رقم ادا کر کے اسی کنال زمین خریدی ہے اور اس میں جتنی سڑکیں ہیں وہ میری ملکیت ہیں۔ پھر صدر انجمن احمدیہ کی ذاتی زمین دوسو کنال ہے۔ اس میں بھی کئی سڑکیں ایسی ہیں جو صدر انجمن احمدیہ کی ملکیت ہیں ۔ اب اگر کوئی میرا دشمن یا سلسلہ کا دشمن ان جگہوں میں سے گزرے تو ناظر امور عامہ کو قانونی طور پر حق حاصل ہے کہ اُسے روک دے۔ اور حکومت در حکومت نہیں بلکہ یہ ذاتی تحفظ کا قانون ہے جس پر ہر جگہ عمل کیا جاتا ہے۔ اگر کسی چوڑھے کے پاس بھی دوسو کنال زمین ہو اور وہ اس میں ہیں مکانات بنا لے تو وہ جب چاہے اُن میں آنے سے منع کر سکتا ہے۔ اگر یہ حکومت در حکومت ہے تو یہی اخبار جو اس وقت شور مچا رہے ہیں اعلان کر دیں کہ دنیا کے تمام لوگوں کو خواہ وہ ہمارے شدید ترین دشمن ہوں اجازت ہے کہ وہ ہمارے گھروں میں رات دن جس وقت چاہیں آ جائیں ہم انہیں نہیں روکیں گے۔ کیونکہ ہم حکومت در حکومت کے قائل نہیں ۔ غرض جتنے احکام بھی نظارت امور عامہ کی طرف سے دیئے گئے ہیں اُن میں ایک مثال بھی حکومت در حکومت کی نہیں۔ بلکہ ان میں سے ہر مثال ثابت کرتی ہے کہ نظارت امور عامہ نے جو کچھ کیا ہے اپنے اختیارات کے اندر رہ کر کیا ہے۔ اُس نے قطعاً ایسا کوئی حکم نہیں دیا کہ ربوہ کی سرکاری سڑکوں پر چلنا منع ہے۔ انہوں نے جب یہ کہا ہے کہ فلاں شخص کو ربوہ میں آنے کی اجازت نہیں تو اس ربوہ سے مراد وہ مکانات اور سڑکیں ہیں جو نظارت امور عامہ کے ماتحت ہیں یا میرے اور صدر انجمن احمد یہ کے مکانات ہیں ان میں آنے سے کسی کو روکنا ہرگز مجرم نہیں اور کسی کو یہ کہنے کا حق حاصل نہیں یہ حکومت در حکومت ہے بلکہ جو شخص ایسے علاقہ میں بغیر اجازت کے داخل ہوتا ہے وہ خود فتنہ کھڑا کرتا ہے۔ تمام احمد یوں نے میری بیعت کر کے اس کا اقرار کیا ہوا ہے کہ وہ میری اطاعت کریں گے۔ پس اُن کے اس اقرار کے ماتحت نظارت امور عامہ اگر کسی ایسے شخص پر جو خلافت یا نظام سلسلہ کا باغی ہے کسی قسم کی پابندی عائد کرتی ہے تو وہ اس پابندی کے عائد کرنے میں بالکل حق بجانب ہے۔ یہ حکومت در حکومت نہیں بلکہ اظہار غیرت ہے اور اظہار حق ہے اور یہ حق انہیں قانون اور شریعت نے دیا ہے۔ دیکھو خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک موقع پر حضرت عائشہ نے عرض کیا