خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 392

خطبات محمود جلد نمبر 37 392 $1956 چودھری شہاب الدین صاحب کو لکھا کہ آپ تو میری دوستی کا دم بھرتے ہیں لیکن آپ کے سالے نے میرے ساتھ نہایت گستاخانہ سلوک کیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ وہ بہت نالائق اور ذلیل ہے۔میں بھی اُس سے خفا ہوں۔میں نے کہا اگر یہ بات ہے تو آپ اُسے اپنے گھر میں نہ آنے دیں۔اگر وہ آپ کے گھر آیا تو میں آپ سے کلام نہیں کروں گا۔انہوں نے کہا بہت اچھا! آج سے وہ میرے گھر نہیں آئے گا اور اگر آئے تو آپ جو جی چاہے مجھ سے سلوک کریں۔بعد میں مجھے پتا لگا کہ وہ انہی کے گھر پر رہتا ہے اور کئی ماہ سے وہاں ٹھہرا ہوا ہے۔میں نے انہیں کہلا بھیجا کہ آپ نے تو وعدہ کیا تھا کہ آپ کا سالا آپ کے گھر نہیں ئے گا۔انہوں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ میری بیوی چونکہ فوت ہو گئی ہے۔میری سالیاں میرے پیچھے پڑ گئی تھیں کہ بھائی جی بیمار ہیں آپ انہیں اپنے گھر میں بلا لیں۔اس لیے میں نے مجبور ہو کر اُسے گھر بلا لیا۔میں نے کہا اس مجبوری کا خیال تو آپ کو اُس وقت بھی آ سکتا ہے تھا جب آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آپ کے گھر نہیں آئے گا۔اُس وقت آپ نے یہ کیوں کہہ دیا کہ اگر وہ میرے گھر آیا تو آپ جو سلوک مجھ سے چاہیں کریں۔اس ناراضگی کی جہ سے ایک دفعہ جب انہوں نے مجھے کہلا بھیجا کہ میں آپ سے ملنے کے لیے آنا چاہتا ہوں تو میں نے کہا فلاں واقعہ یاد کر لو۔آپ نے خود کہا تھا کہ اگر میرا سالا میرے گھر پر آیا تو پ جو سلوک چاہیں مجھ سے کریں یہ آپ کا اپنا فتویٰ ہے۔اس لیے میں آپ سے ملنا نہیں چاہتا۔انہوں نے بدظنی کے ماتحت خیال کر لیا کہ سر فضل حسین صاحب نے مجھے ان سے ملنے سے منع کر دیا ہے اور انہوں نے ان کے خلاف میرے کان بھرے ہیں۔سر فضل حسین صاحب مجھ سے ملے تو انہوں نے کہا کہ سید محسن شاہ صاحب آئے تھے انہوں نے بتایا ہے کہ چودھری شہاب الدین صاحب نے شکایت کی ہے کہ مرزا صاحب کو سرفضل حسین نے میرے خلاف کر دیا ہے اور انہیں کہا ہے کہ وہ مجھے ووٹ نہ دیں۔اُس وقت چودھری شہاب الدین ماحب ضلع سیالکوٹ کے کسی حلقہ سے بطور امیدوار کھڑے تھے اور ہمارے چودھری شاہ نواز صاحب جن کی لاہور میں موٹروں کی ایک بڑی دکان ہے وہ ان کے مقابلہ میں کھڑے تھے۔چودھری شہاب الدین صاحب سیالکوٹ میں بہت کم جاتے تھے لیکن چودھری شاہ نواز صاحب