خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 388

خطبات محمود جلد نمبر 37 388 $1956 میری رائے بھی آپ کے متعلق کچھ ایسی ہی ہے۔کہنے لگے نہیں نہیں۔میں تو آپ کا دوست ہوں۔میں نے کہا نواب ممدوٹ بھی میرے دوست ہیں۔اس کے بعد میں قادیان آیا تو نواب احسان علی صاحب مالیر کوٹلہ والے میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ مجھے نون صاحب نے بھیجا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ آپ وعدہ کر گئے تھے کہ میرے لیے کوشش کریں گے اور تمام ممبروں کو کہیں گے کہ مجھے ووٹ دیں۔میں نے کہا وہ غلط کہتے ہیں۔وہ اتنی جلدی بھول گئے۔میں نے انہیں کہا تھا کہ آپ نہایت سادہ ہیں۔آپ کے خیال میں 56 ممبروں کے دستخط آپ کی جیب میں ہیں لیکن موقع پر چھ بھی آپ کی تائید میں کھڑے نہیں ہوں گے۔اگر فی الواقع 56 ممبر آپ کی مدد کے لیے تیار ہوں تو میری مدد کی ضرورت ہی نہیں ہو گی۔آپ 56 ممبروں کی تائید سے ہی جیت سکتے ہیں۔لیکن میری رائے یہ ہے کہ یہ لوگ آپ کو دھوکا دے رہے ہیں۔نواب احسان علی صاحب ہنس پڑے اور کہنے لگے بات تو آپ کی ٹھیک ہے۔نون صاحب سادہ ہیں۔یہ لوگ انہیں دھوکا دے رہے ہیں اور پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہے۔میں کہا پھر آپ انہیں سمجھائیں۔اگر 56 ممبران کے ساتھ ہیں تو وہ یقیناً جیت جائیں گے اور اگر یہ محض دھوکا ہے تو جو اُن کی مدد کرے گا وہ بھی غلطی کرے گا۔پس یہ حکومت در حکومت کا معاملہ ہمیشہ چلتا رہا ہے۔ہندو بھی کہتے رہے ہیں، مسلمان بھی کہتے رہے ہیں، مسلم لیگ والے بھی کہتے رہے ہیں۔ہاں ری پبلکن پارٹی ایسی ہے جس نے ابھی تک کچھ نہیں کہا۔لیکن مسلم لیگ تو ہمیشہ یہ کہتی رہی ہے کہ ہماری فلاں سے صلح کرا دو، فلاں سے سمجھوتا کرا دو بلکہ انگریز بھی یہی کہتے رہے ہیں اور عرب بھی یہی کہتے رہے ہیں۔حتی کہ جب چودھری ظفر اللہ خاں صاحب سرکاری ملازمت اختیار کرنے سے پہلے امریکہ گئے ہوئے تھے تو عربوں کے تمام نمائندوں نے جو یو۔این۔او میں گئے ہوئے تھے مجھے مشترکہ تار دیا کہ آپ چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو ہدایت کریں کہ وہ ابھی واپس نہ جائیں بلکہ یہاں رہ کر ہماری امداد کریں۔چنانچہ انہیں تار دے دی گئی اور وہ وہیں ٹھہر گئے۔لیکن 1953ء میں تمام لوگوں نے شور مچایا کہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب ہیں تو گورنمنٹ کے ملازم لیکن اطاعت اپنے خلیفہ کی کرتے ہیں اور اس کی مثال میں انہوں نے یہ واقعہ پیش کیا۔