خطبات محمود (جلد 37) — Page 385
$1956 385 خطبات محمود جلد نمبر 37 انہوں نے کہا ڈپٹی کمشنر کہتا تو ہے لیکن عملی طور پر وہ کچھ نہیں کرتا۔میں نے کہا تم نے خود ہی شور مچایا تھا کہ یہاں حکومت در حکومت قائم ہے۔اب ہم کیا کر سکتے ہیں۔حکومت ہمیں اجازت نہیں دیتی۔اس وقت بھی تین چار غیر احمدیوں کی چٹھیاں میرے پاس آئی ہوئی ہیں کہ بعض احمدیوں نے اُن کا روپیہ دینا ہے آپ ہمیں دلا دیں۔ان میں سے ایک شخص نے بڑی منت کی اور کہا میں بھوکا مر رہا ہوں میری مدد کی جائے اور اصرار کیا کہ میں اس میں ضرور دخل دوں۔آخر میں نے اس کی سفارش کر دی لیکن باقی درخواستوں کو میں نے روکا کیونکہ درخواست دینے والے غیر احمدی ہیں۔اب میں اُن کو لکھوں گا کہ تم فلاں فلاں اخبار کو لکھو کہ وہ تمہارا روپیہ دلوا دیں ورنہ ہو سکتا ہے کہ بعد میں تم بھی کہنے لگ جاؤ کہ یہ تو حکومت در حکومت ہوتی گئی۔پھر میرے لیے ایک اور مشکل یہ بھی ہے کہ اگر کوئی احمدی کسی غیر احمدی کے خلاف نالش کرے تو غیر احمدی کہے گا میں تو احمدی نہیں ہوں میں تمہارا فیصلہ کیوں مانوں ؟ اس طرح احمدی کا حق مارا جائے گا۔اگر غیر احمدی، احمدی کے خلاف نالش کرے تو اُس کا حق اُسے مل جائے گا اور پھر الٹا الزام عائد کیا جائے گا کہ یہ لوگ حکومت در حکومت کرتے ہیں۔اس لیے میں ان غیر احمدیوں سے جو مقدمات سننے کے لیے درخواست کرتے ہیں کہہ دیا کرتا ہوں کہ تم عدالت میں جاؤ۔لیکن وہ پھر بھی یہی کہتے رہتے ہیں کہ عدالت سے ہم باز آئے آپ کا احسان ہو گا۔ی ہمارا حق ہمیں دلوا دیں۔مجھے یاد ہے جب لارڈ ایمرسن گورنر تھے انہوں نے ایک مقدمہ کے سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو ہمارے متعلق لکھا کہ ان کا اپنی جماعت کے لوگوں کے مقدمات سننا حکومت در حکومت ہے۔اس کے بعد وہ دورہ پر رہتک گئے اور وہاں انہوں نے ایک تقریر کی۔اُس تقریر میں انہوں نے ایک پٹواری کی بڑی تعریف کی اور کہا میں سارے پنجاب میں پھرا ہوں لیکن اس جیسا اچھا آدمی میں نے نہیں دیکھا۔اُس نے دیہات میں پنچائیتیں قائم کروائی ہیں جو مقدمات کا فیصلہ کرتی ہیں۔چنانچہ اب تک پانچ سو مقدمات کا یہ گھر میں ہی فیصلہ کروا چکا ہے اور اس طرح لوگوں کا روپیہ ضائع ہونے سے اس نے بچا لیا ہے۔مجھے جب اس تقریر