خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 382

$1956 382 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ اللہ تعالیٰ آپ کا اقبال زیادہ کرے لیکن سید ولی اللہ شاہ صاحب کے بیوی بچوں کو ان کا وطن دکھانے کے لیے صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید نے تیرہ ہزار روپیہ سے زیادہ رقم دی مگر اس خاندان کا ایک فرد یہ کہتا ہے کہ میں نے انہیں اس لیے باہر بھیج دیا ہے کہ وہ کہیں خلیفہ نہ ہو جائیں۔اس طرح کی اور بھی مثالیں ہیں۔مگر میں ان میں نہیں پڑتا۔بعض لوگوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ دیکھو جی! ربوہ میں حکومت در حکومت قائم ہے اور اس کی مثال یہ دی ہے کہ ربوہ سے بعض لوگوں کو نکال دیا گیا ہے۔حالانکہ اگر غور کیا جائے تو ނ ربوہ درحقیقت کئی چیزوں کا نام ہے۔ربوہ نام ہے اُس شاہی سڑک کا بھی جو لائکپور سرگودھا کو جاتی ہے اور ربوہ میں سے گزرتی ہے۔اب کیا کسی شخص کی طاقت ہے کہ وہ کسی کو اس سڑک پر چلنے سے روک سکے؟ کیا نظارت امور عامہ یہ حکم دے سکتی ہے کہ فلاں شخص اس سڑک پر نہ آئے۔یقیناً نظارت امور عامہ ایسا حکم نہیں دے سکتی۔پھر ربوہ نام ہے اُن بعض قطعات اراضی کا جو حکومت نے ہمارے پاس زمین فروخت کرتے ہوئے اپنے قبضہ میں رکھے۔جیسے وہ سڑک ہے جو شاہی سڑک سے لنگر خانہ کی طرف آتی ہے اور پھر مسجد کی طرف نکل جاتی ہے۔اس سڑک کو حکومت نے اپنے قبضہ میں رکھا ہے۔اب کیا ناظر امور عامہ کسی کو اس سڑک سے باہر نکال سکتے ہیں؟ کبھی نہیں نکال سکتے۔پھر ربوہ نام ہے اُن عمارتوں کا جو احمدیوں کی ملکیت ہیں یا سلسلہ کی ملکیت ہیں یا ربوہ نام ہے زمین کے ان ٹکڑوں کا جو میں نے ہیں ہزار کے قریب روپیہ خرچ کر کے اپنے بچوں کے لیے خریدے ہیں۔ان ٹکڑوں میں ٹاؤن پلینز نے سڑکیں بنائی ہیں وہ بھی ذاتی ہیں گورنمنٹ کی نہیں۔اب وہ سڑکیں جو میری ملکیت ہیں اور میں نے صدرانجمن احمدیہ سے قیمت دے کر خرید کی ہیں۔اگر وہاں میرا کوئی دشمن آ جائے اور میں اُسے روکوں تو یہ کونسی حکومت در حکومت ہے۔وہ سڑکیں تو خود حکومت نے میرے خاندان کے لیے بنائی ہیں اور میں نے اُن کی قیمت ادا کی ہے۔اگر کوئی ایسا شخص جو میری دشمنی کا اظہار کرتا ہے وہاں آئے تو کیا قانوناً میرا حق نہیں کہ میں اُسے روک دوں؟ اور اگر میں اُسے وہاں آنے سے روکتا ہوں تو کیا اس کا یہ مفہوم لیا جائے گا کہ میں نے اسے ربوہ آنے سے روکا ہے؟ پھر ربوہ کا ایک حصہ احمدیوں کے مکانات کا ہے اور وہ اُن کی