خطبات محمود (جلد 37) — Page 374
1956ء 374 خطبات محمود جلد نمبر 37 بڑھانے کے گویا دولت کے ساتھ دین کا لفظ بھی موجود ہے۔ لیکن محض تعصب اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تخفیف اور حضرت خلیفہ مسیح الاول کا درجہ کے لیے یہ کہا جا رہا ہے کہ آپ نے تو اپنی اولاد کے لیے دنیا مانگی تھی لیکن حضرت خلیفة امسيح الاول نے اپنی اولاد کو خدا تعالیٰ کے سپرد کیا تھا۔ حالانکہ اپنی اولاد کو خدا تعالیٰ کے سپرد تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی کیا تھا۔ چنانچہ آپ کا یہ الہامی شعر ہے کہ سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را 4 کہ اے خدا! میں اپنی ساری پونجی تیرے حوالہ کرتا ہوں تو کم و بیش کا اختیار رکھتا ہے۔ لیکن جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اپنی اولاد کے لیے یہ کہیں نہیں لکھا کہ ان کے لیے قرضہ حسنہ جمع کیا جائے وہاں حضرت خلیفہ مسیح الاول نے خدا کے سپرد کرنے کے علاوہ اپنی اولاد کو جماعت کے امراء کے بھی سپرد کیا اور وصیت فرمائی کہ ان کی پرورش کے لیے قرضہ حسنہ جمع کیا جائے۔ اور خدا تعالیٰ نے ان کی اولاد کو جھوٹا کرنے کے لیے یہ کاغذات اب تک محفوظ رکھے۔ اب دیکھیں اس وصیت کی اشاعت پر پیغامی کیا کہتے ہیں۔ اس تحریر پر مولوی محمد علی صاحب کے دستخط بھی موجود ہیں۔ وہ دیکھ لیں کہ انہوں نے آئندہ خلافت کے جاری رہنے کو تسلیم کیا ہے۔ پھر خلافت کے انکار کے کیا معنی ؟ ہمیں اُس وقت اس تحریر کو شائع کرنے کا خیال ہی نہ آیا ورنہ یہ خلافت کے جاری رہنے کا ایک بڑا بھاری ثبوت تھا۔ نواب صاحب مرحوم نے اسے اپنے پاس محفوظ رکھا۔ ان کی عادت تھی کہ وہ چھوٹے چھوٹے کاغذ کے پرزوں کو بھی محفوظ رکھا کرتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد پچاس پچاس سال کے کاغذ نکلے ۔ مثلاً کئی اس قسم کے پرانے پُرزے نکلے کہ فلاں دھوبی کو ایک آنہ دینا ہے، فلاں موچی کو پانچ پیسے دینے ہیں یا فلاں پنساری کو دو آنے دینے ہیں۔ پھر ان کے خاندان نے یہ تمام رقوم ادا کیں ۔ یہ وصیت بھی انہوں نے سنبھال کر رکھی ہوئی تھی۔ وفات کے قریب آپ نے یہ اپنی بیوی یعنی ہماری ہمشیرہ کے سپرد کر دی۔ اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ ہمارے کام آ گئی۔