خطبات محمود (جلد 37) — Page 373
$1956 373 خطبات محمود جلد نمبر 37 اماں جی نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر تم نے جائیداد میں سے اپنی بیوی کا وہ حصہ طلب کیا جو قرآن کریم نے اس کے لیے مقرر کیا ہے تو میں اس قرآن کے بھیجنے والے کے پاس تمہارے لیے بددعائیں کروں گی۔حالانکہ جس خدا نے قرآن کریم میں اس کے لیے جائیداد میں حصہ مقرر کیا ہے وہ کسی دوسرے کی بددعائیں سنے گا کیوں؟ اگر اس نے آئندہ بددعائیں قبول کرنی ہوتیں تو وہ قرآن کریم میں حصے کیوں مقرر کرتا؟ وہ کہہ دیتا کہ چاہو تو کسی کو حصہ دو اور چاہو تو نہ دو۔بہر حال یہ وہ وصیت ہے جو حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے وفات سے قبل کی اور پھر ان کی اپنی تحریر ہے جس پر نواب محمد علی خاں صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کے علاوہ میرے بھی دستخط ہیں۔پھر نواب صاحب مرحوم کی اپنی چٹھی موجود ہے جو انہوں نے میری طرف لکھی۔وفات کے وقت انہوں نے یہ تحریریں اپنی بیوی یعنی ہماری ہمشیرہ کو دے دیں اور انہوں نے میاں بشیر احمد صاحب کو دے دیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اُس نے ان تحریروں کو بیالیس سال تک چُھپائے رکھا اور اب آکر ظاہر کر دیا تا کہ ان لوگوں کا جھوٹ ظاہر ہو جائے۔میاں عبدالوہاب نے کہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نَعُوذُ بِاللهِ غلطی کی کہ آپ نے اپنی اولاد کو خدا تعالیٰ کے سپرد نہیں کیا۔لیکن حضرت خلیفہ اول نے ہمیں خدا تعالیٰ کے سپرد کیا حالانکہ حضرت خلیفہ المسیح الاول اپنی وصیت میں لکھتے ہیں کہ ”ہمارے گھر میں مال نہیں۔ان کا اللہ حافظ۔ان کی پرورش امدادی یا یتامی یا مساکین سے نہ ہو۔کچھ قرضہ حسنہ جمع کیا جائے۔لائق لڑکے ادا کریں۔گویا باپ تو اپنی اولاد کو خدا تعالیٰ کے ساتھ جماعت کے امراء کے بھی سپرد کرتا ہے لیکن اولاد کہتی ہے کہ ہمارے ابا نے ہمیں صرف خدا تعالیٰ کے سپرد کیا تھا۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی اولاد کے لیے صرف دنیا نہیں مانگی بلکہ دین بھی مانگا ہے۔آپ فرماتے ہیں: کر ان کو نیک قسمت دے ان کو دین و دولت کر ان کی خود حفاظت ہو ان پہ تیری رحمت 3