خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 372

1956ء 372 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ ان کی اولاد کی پرورش کے لیے قرضہ حسنہ جمع کیا جائے ۔ لیکن ہم نے قرضہ حسنہ جمع نہیں کیا بلکہ انہیں سلسلہ کے اموال سے وظائف دے کر وظائف دے کر پڑھایا اور اور اس طرح ان کی اس مصیبت کو دور کیا جو ان پر آئی تھی ۔ حضرت خلیفہ مسیح الاول نے اپنی وصیت میں جو یہ تحریر فرمایا ہے کہ جائیداد وقف على الاولاد ہو اس کے یہ معنے نہیں تھے کہ شریعت نے جو حصص مقرر کیے ہیں وہ با وہ باطل ہو جائیں گے۔ بلکہ آپ کا منشا یہ تھا کہ شرعی طور پر پر جس قدر حصہ کسی کو مل سکتا ہے وہ اُسے دیا جائے۔ لیکن جب میاں عبدالحی صاحب فوت ہوئے اور اُن کی بیوہ نے سید محمود اللہ شاہ صاحب سے شادی کر لی تو اُس وقت ان بچوں کی والدہ نے انہیں بلا کر کہا کہ تم پر خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہوگا اگر تم نے اپنی بیوی کا حصہ جائیداد سے طلب کیا۔ اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہارے لیے بد دعائیں کروں گی۔ چنانچہ وہ ڈر گئے اور انہوں نے کوئی حصہ طلب نہ کیا۔ جب مجھے پتا لگا تو میں نے کہا کہ وقف عَلَی الْاَولاد کے تو معنے ہی یہ ہیں کہ انہیں شریعت کے احکام کے مطابق جائیداد سے حصہ دیا جائے۔ چنانچہ میں نے خود حضرت خلیفة امسیح الاول کی زندگی میں آپ سے اس بارہ میں بات کی تھی اور آپ نے فرمایا تھا کہ وقف عَلَی الأَوْلاد کے یہ معنے نہیں کہ شریعت کے حصے باطل ہو جائیں ۔ بلکہ اس کے صرف یہ معنے ہیں کہ اسے اولاد میں شریعت کے مطابق تقسیم کیا جائے ۔ میاں عبدالحی آپ کا بیٹا تھا اور آپ کے بعد فوت ہوا تھا۔ اس لیے اُس کا آپ کی جائیداد میں جس قدر حصہ تھا اُس میں سے جتنا حصہ اُس کی بیوی کے لیے شریعت نے مقرر کیا تھا وہ بہر حال اُسے ملنا چاہیے تھا۔ لیکن ان بچوں کی والدہ نے سید محمود اللہ شاہ صاحب سے کہا کہ اگر تم نے اپنی بیوی کا حصہ مانگا تو میں تمہارے لیے بددعا ئیں کروں گی۔ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب جو لڑکی کے والد تھے انہوں نے بھی کہا کہ اس کا حصہ شریعت نے مقرر کیا ہے اور اُسے ضرور ملنا چاہیے۔ لیکن سید محمود اللہ شاہ صاحب کمزور دل تھے۔ انہوں نے کہا اماں جی کہتی ہیں کہ میں تمہارے لیے بددعائیں کروں گی اس لیے میں یہ حصہ نہیں لیتا۔ اور یہ بھی کہا کہ میں نے اپنی بیوی سے بھی اس کا ذکر کیا تھا۔ وہ بھی اس بات پر راضی ہو گئی ہیں کہ میں جائیداد میں سے اپنا حصہ چھوڑتی ہوں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی زندگی میں جائیداد سے کوئی حصہ طلب نہیں کیا۔ لیکن