خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 358

$1956 358 خطبات محمود جلد نمبر 37 اے مومنو! اگر تم دلیل سے ایمان لائے تھے تو تمہیں کونسی چیز ہرا سکتی ہے۔تمہارا مقابلہ کرنے کی تو دنیا میں کسی میں طاقت نہیں ہو سکتی۔اگر دلیل کے مقابلہ میں کوئی اور چیز تمہیں ہرا سکتی ہے تو معلوم ہوا کہ تمہارا یہ خیال کہ تم دلیل دیکھ کر ایمان لائے تھے بالکل باطل تھا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی دلیلیں آپس میں ٹکراتی نہیں۔اگر پہلی دفعہ تم نے دلیل سے مانا تھا تو اب اگر اس دلیل کے خلاف تمہارے پاس کوئی بات بیان کی جاتی ہے تو اسے رڈ کر دو۔میں بھی تمہیں یہی کہوں گا کہ تمہیں مجھ سے یا کسی اور مولوی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں تم خود سوچو اور غور کرو کہ تم نے کس دلیل سے مجھے مانا تھا۔اگر وہ کوئی پکی دلیل تھی تو وہی دلیل اب بھی قائم ہے تمہیں اور کسی نئی دلیل کی ضرورت نہیں۔تم وہی دلیل ان لوگوں کے سامنے پیش کرو اور کہو کہ ہم تمہارے کہنے کی وجہ سے اس دلیل کو کس طرح رڈ کر سکتے ہیں۔مجھے اس موقع پر ترکوں میں سے ایک مذاقیہ عالم کا قصہ یاد آ گیا۔وہ کسی گاؤں میں گیا تو لوگوں نے اسے مجبور کیا کہ وہ جمعہ پڑھائے۔وہ ایسا ہی تھا جیسے ہمارے ہاں فلاسفر ہوا کرتا تھا۔کوئی خاص علمی ذوق نہیں رکھتا تھا مگر عالموں کی مجلسوں میں آتا جاتا تھا اور اس وجہ سے بعض دفعہ عقل کی باتیں بھی کہہ دیتا تھا۔اُسے جب لوگوں نے خطبہ کے لیے مجبور کیا تو وہ اس بڑا گھبرایا کہ مجھے تو کچھ بھی نہیں آتا۔میں نے خطبہ پڑھا تو ہنسی اُڑے گی۔اس لیے اس نے کی انکار کر دیا اور کہا کہ میں خطبہ نہیں پڑھ سکتا۔مگر لوگوں نے اصرار کیا اور کہا کہ ہم آپ سے ہی خطبہ سنیں گے۔آخر وہ مجبور ہو گیا اور خطبہ کے لیے کھڑا ہو گیا۔کھڑے ہو کر اس نے پہلے دائیں طرف کے لوگوں کو دیکھا اور کہا ارے لوگو! تمہیں پتا ہے کہ میں نے کیا کہنا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔پھر اس نے بائیں طرف کے لوگوں کو دیکھا اور کہا ارے لوگو! تمہیں پتا ہے کہ میں نے کیا کہنا ہے؟ انہوں نے بھی کہا نہیں۔وہ کہنے لگا جب تمہیں میرے عقائد کا ہی پتا نہیں اور تمہیں معلوم ہی نہیں کہ میں کیا کہا کرتا ہوں تو تمہیں کچھ کہنے کا کیا فائدہ؟ اور یہ کہہ کر وہ منبر سے نیچے اُتر آیا۔دوسرا جمعہ آیا تو لوگوں نے کہا کہ ہم نے اس کا وعظ ضرور سننا۔اسے پھر دوبارہ خطبہ پڑھنے پر مجبور کیا جائے۔اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگر اب کی دفعہ بھی یہ وہی سوال کرے جو اس نے پچھلی دفعہ کیا تھا تو سب لوگ کہہ دیں کہ ہاں! ہمیں پتا - ہے ہے