خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 357

$1956 357 خطبات محمود جلد نمبر 37 بھی نہ کروں۔حقیقتا یہی سچا ایمان ہے۔جس شخص کو یہ خیال ہے کہ اگر خلیفہ اول کے ایک بیٹے کے ساتھ دوسرا بیٹا ملا اور دوسرے کے ساتھ تیسرا ملا تو اُس کا ایمان ڈانواں ڈول ہو جائے گا۔اسے کبھی بھی ایمان نصیب نہیں ہوا۔وہ کبھی بھی احمدی نہیں ہوا اور نہ اس یقین کے ساتھ آئندہ ہو گا۔اگر وہ بیعت نہ کرتا تو اُس کی حالت آج کی حالت سے بہتر ہوتی۔جب اُس نے ان خوابوں پر یقین نہیں کیا جو اُسے خود آئیں، جب اُس نے اُن نشانات کو نہ دیکھا جو خدا تعالیٰ نے میری صداقت کے لیے اُس کے سامنے ظاہر کیے، جب اُس نے اُن الہاموں سے فائدہ نہ اُٹھایا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میرے متعلق ہوئے ، جب اُس نے قرآن اور حدیث کے ان دلائل کو رڈ کر دیا جن سے میری صداقت ظاہر ہوتی تھی تو ایسا نالائق جو اتنی باتوں کو رڈ کر رہا ہے اُس کا ٹھکانا سوائے جہنم کے اور کیا ہوسکتا ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک دفعہ ایک زمیندار جو مولوی طرز کا تھا آ کر بیٹھ گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہنے لگا کہ میں آپ کی صداقت کا کوئی نشان دیکھنے آیا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُس کی یہ بات سن کر ہنس پڑے اور فرمایا خدا تعالیٰ نے میری صداقت کے لیے ہزاروں ہزار نشانات نازل کیے ہیں۔تریاق القلوب اور نزول امیج کو پڑھو ان میں بیسیوں نشانات کا ذکر موجود ہے۔اسی طرح اور کتابیں پڑھو۔اگر اتنے نشانوں سے تم نے فائدہ نہیں اُٹھایا تو جو شخص سو نشانوں کو رڈ کر سکتا ہے اُسے اگر ایک اور نشان دکھا دیا جائے تو وہ اُس کا بھی انکار کر سکتا ہے۔آخر خدا مداری تو نہیں کہ جب کوئی شخص نشان دیکھنا چاہے اُسی وقت وہ نشان ظاہر کر دے۔جب وہ سونشان دکھا چکا ہے تو تم اُن سونشانوں سے فائدہ اُٹھاؤ۔ایک سو ایک نشان دیکھنے کا تم کیوں مطالبہ کرتے ہو؟ اور اگر تم سونشانوں کی قدر نہیں کرتے اور یہی مطالبہ کرتے جاتے ہو کہ ایک ا نشان دکھاؤ تو خدا کہے گا کہ جب تم نے میرے سونشانوں کو جوتی ماری ہے تو اب میں تمہیں کوئی اور نشان دکھانے کے لیے تیار نہیں۔کیونکہ میرے نشانات بڑی عزت والے ہیں۔میں بھی تمہیں دھتکار دوں گا۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا