خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 347

$1956 347 خطبات محمود جلد نمبر 37 وہ عورت کچھ دیر تک تو یہ نظارہ دیکھتی رہی۔آخر کہنے لگی بہن! یہ کوئی انصاف ہے کہ تو میرا کام کرے اور میں تیرا کوئی کام نہ کروں؟ تو میرے دانے پیس میں تیری روٹی کھاتی ہوں اور یہ کہہ کر وہ اُس کے پچھلکوں والی ٹوکری کے پاس بیٹھ گئی اور روٹی کھانے لگ گئی۔یہی طریق ایسا انسان اختیار کرتا ہے۔وہ کہتا ہے چلو! میں فرشتوں کی طرف سے گناہ کرتا رہوں اور وہ میری طرف سے استغفار کرتے رہیں حالانکہ فرشتوں کے استغفار کا فائدہ تو اسے پہنچ جاتا ہے کہ اُس پر عذاب نہیں آتا۔مگر اس کے گناہوں کا انہیں کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔وہ اگر استغفار کرتے ہیں تو محض انسان کے فائدہ کے لیے۔پس عقلمند انسان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر فرشتے بھی میرے لیے استغفار میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ وہ ہر قسم کے گناہوں سے پاک ہیں تو میں اپنے گناہوں کے لیے کیوں نہ استغفار کروں۔اگر دوسرا میرے حال پر روتا ہے تو میں اپنے حال پر کیوں نہ روؤں ؟ اگر کسی کے گھر میں موت ہو جائے اور ہمسائے بھی رونے لگیں لیکن وہ خود سیر کرنے کے لیے باہر نکل جائے تو سب لوگ اُسے احمق اور بیوقوف قرار دیں گے سوائے اس کے کہ اُس نے اپنے آنسوؤں کو زبردستی روک رکھا ہو۔ایک مشہور تاریخی واقعہ ہے کہ جب مکہ والے بدر کے میدان میں مارے گئے تو مکہ کے رؤساء نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر اس وقت ہم روئیں گے اور ہمارے رونے اور پیٹنے کی خبریں مدینہ پہنچیں گی تو مسلمانوں کو خوشی ہوگی۔اس لیے اگر اپنے مُردوں پر کوئی شخص رویا یا چین چیلا یا تو اُسے سو اونٹ جرمانہ کیا جائے گا۔اس اعلان پر سارے مکہ والے ڈر گئے اور وہ اپنے اپنے گھروں میں خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔ایک بڑھا آدمی جس کے دو نو جوان بیٹے بدر کی جنگ میں مارے گئے تھے اُس نے جب دیکھا کہ مجھ سے صبر نہیں ہو سکتا تو وہ گھر کے دروازے بند کر کے ایک کوٹھڑی کے اندر بیٹھ گیا اور وہیں اُس نے رونا شروع کر دیا۔وہ ڈرتا تھا کہ اگر میں با ہر نکل کر رویا تو سو اونٹ مجھ پر جرمانہ ہو جائے گا۔ایک دن وہ اسی طرح گھر کا دروازہ بند کر کے اندر بیٹھا رو رہا تھا کہ مکہ کے قریب سے ایک شخص گزرا جو روتا جا رہا تھا۔لوگوں نے اُس سے پوچھا کہ تو کیوں رو رہا ہے؟ اُس نے کہا میں فلاں جگہ سے آ رہا تھا کہ راستہ میں میری اونٹنی مرگئی اور اب میں اُس کی یاد میں رو رہا ہوں۔جب اس بڑھے نے یہ بات سنی تو اس