خطبات محمود (جلد 37) — Page 332
$1956 332 خطبات محمود جلد نمبر 37 گویا جب خدا تعالیٰ نے چاہا کہ پردے پھاڑ دیئے جائیں اور ان منافقوں کو ننگا کر دیا جائے تو وہی لوگ جو ایک ایک سال تک بزدلی دکھاتے رہے تھے دلیر ہو گئے اور جو چھ ماہ تک ان باتوں کو چھپاتے رہے اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا اب بزدلی دور کر دو اور بھید ظاہر کر دو۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ جلسہ کے موقع پر یہ بات سنی تھی ، بعض نے کہا ہے کہ شورای کے دنوں میں یہ بات ہوئی تھی اور ایک شخص نے تو یہاں تک کہا ہے کہ 1954ء میں یہ بات ہوئی۔اب دیکھ لو 1954ء والے نے دوسال یا اس سے زائد عرصہ تک ایک بات کو چھپائے رکھا۔1955ء والے نے ایک سال تک بات کو مخفی رکھا۔جلسہ سالانہ والے نے سات ماہ تک بزدلی دکھائی۔شورای والا پانچ ماہ تک چپ رہا اور اب آ کر یہ سب لوگ بہادر بن گئے اور انہوں نے سمجھا کہ حقیقت ظاہر کر دینی چاہیے۔یہ چیز بتاتی ہے کہ اس کے پیچھے خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔جب اُس نے کہا منہ بند رکھو تو منہ بند رہے اور جب اُس نے منہ کھولنے کے لیے کہا تو وہ کھل گئے۔اس لیے تم اس فتنہ کو دور کرنے کے لیے خدا تعالیٰ سے ہی کہو۔پھر دیکھو گے کہ منافقت کی یہ سب باتیں هَبَاءَ مُسبقًا 9 ہو جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت تم پر نازل کر دے گا بشرطیکہ تم اپنے دلوں میں نیکی قائم کرو۔میں تمہیں ایک چھوٹی سی بات کہتا ہوں کہ تم ایک ایک، دو دو کر کے غور کرو اور سوچو کہ اگر خلافت مٹ جائے تو کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا کوئی بھی امکان ہو سکتا ہے کہ تین سو سال میں احمدیت ساری دنیا پر غالب آ جائے گی؟ چاہے کوئی شخص کتنا ہی بیوقوف ہو اگر وہ پندرہ منٹ کے لیے بھی اس بات پر غور کرے اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ اگر تین سوسال میں احمدیت ساری دنیا پر غالب نہ آئی تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکومت دنیا میں ہر گز قائم نہیں ہو سکتی۔سیدھی بات ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو دیس نکالا ابھی سے مل جائے گا کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا آخری حربہ تھا کہ اُس نے موجودہ زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ایک نئی جماعت کو قائم کیا تا کہ وہ اسلام کو دنیا میں غالب کرے۔اگر ان منافقین کی شرارتوں اور منصوبوں کے ذریعہ اس جماعت کو ناکام کر دیا گیا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم