خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 20

$1956 20 20 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ بیماری ہے ہی نہیں۔سوائے اس کے کہ پاؤں اور ہاتھ میں کسی قدر کھچاوٹ محسوس ہوتی تھی لیکن اتنی کھچاوٹ کچھ زیادہ تکلیف دہ معلوم نہیں ہوتی۔آخر تندرستی کی حالت میں بھی انسان بیٹھے بیٹھے تھک جاتا ہے۔لیکن اگر اس کے ساتھ ساتھ دماغ کی پریشانی بھی ہو تو وہ بیماری خطرناک نظر آنے لگ جاتی ہے۔پس آج طبیعت میں نسبتاً سکون ہے۔گو اس حد تک سکون نہیں جیسے کچھ عرصہ پہلے پیدا ہو گیا تھا۔آج میں مختصر طور پر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ دو دن ہوئے میرے ایک عزیز نے مجھ سے بیان کیا کہ سندھ کے بعض احمدیوں کو ریل میں سفر کرتے ہوئے بعض آدمی ملے جنہوں نے اُن پر متعدد سوالات کیے جن کی وجہ سے احمدی دوستوں کو وہم ہوا کہ وہ سی۔آئی۔ڈی کے آدمی ہیں۔مگر میرے خیال میں یہ صرف وہم ہی ہے۔کیونکہ سی۔آئی۔ڈی کے آدمیوں کے ماتھے پر تو سی۔آئی۔ڈی کے الفاظ نہیں لکھے ہوتے۔لیکن جب کوئی شخص عجیب قسم کے سوالات کرتا ہے تو لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ یہ سی۔آئی۔ڈی سے تعلق رکھتا ہے۔لیکن پھر بھی یہ بہتر ہوتا ہے کہ مرکز کو اطلاع کر دی جائے کیونکہ چاہے وہم ہی ہو اس سے مرکز کو اطلاع دے دینا نہایت اہم چیز ہے۔لیکن جس واقعہ کے متعلق میرے اس عزیز نے مجھ سے ذکر کیا ہے اُس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ محض وہم ہے۔کیونکہ مثلاً اگر ایک شخص کسی احمدی دوست سے یہ سوال کرتا ہے کہ تمہاری جماعت کی آمد کتنی ہے؟ جماعت کا چندہ کس قدر ہوتا ہے؟ جماعت کی تعداد کیا ہے اور وہ کہاں کہاں ہے؟ امریکہ سے تمہیں کس قدر مدد ملتی ہے؟ مودودیوں کے ساتھ تمہارے کیا تعلقات ہیں؟ احرار سے تمہارا کیا تعلق ہے؟ تو یہ ساری باتیں ایسی ہیں کہ ان کے لیے گورنمنٹ کو کسی سی۔آئی۔ڈی کے مقرر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اسے ان باتوں کا پہلے سے ہی علم ہے۔اگر ہمیں امریکہ سے مدد آئے گی تو وہ منی آرڈر یا بینک کے ذریعہ سے ہی آئے گی اور ڈاک کا محکمہ تو گورنمنٹ کے ماتحت پھر اسے اس کے لیے سی۔آئی۔ڈی مقرر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہماری جو جماعت پھیلی ہوئی ہے اس کا گورنمنٹ کو علم ہی ہے۔پھر اسے یہ بھی پتا ہے کہ جماعت کے کام چلتے ہیں۔مثلاً زنانہ کالج ہے، مردانہ کالج ہے، دینیات کالج ہے، دینیات کا مدرسہ ہے، لڑکوں کا