خطبات محمود (جلد 37) — Page 278
$1956 278 خطبات محمود جلد نمبر 37 بیرونی مشنوں کے لیے آچکا ہے اور اطلاعیں آ رہی ہیں کہ دوست کوشش کر رہے ہیں کہ اس کی فنڈ کو مضبوط کر کے سال بھر کے اخراجات پورے کر دیں۔پس اللہ تعالیٰ خود ہی اپنے سلسلہ کا حافظ ہوتا ہے اور جہاں سے بظاہر کوئی امداد کی امید نہیں ہوتی وہیں سے اللہ تعالی امداد کی صورت پیدا کر دیتا ہے۔مثلاً یہی اطلاع ملنے پر کہ بیرونی مشنوں کا روپیہ خرچ ہو چکا ہے اب تک کوئی ساڑھے گیارہ سو پونڈ باہر کی جماعتوں نے جمع کیے ہیں اور کچھ پاکستان کی جماعتوں نے بھی دیا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ قریباً سولہ ہزار روپیہ چند دنوں میں جمع ہو گیا ہے۔آجکل پونڈ کی قیمت تیرہ روپے سے اوپر ہے۔پس ایک ہزار پونڈ کے معنے کم سے کم سوا تیرہ ہزار روپیہ کے ہیں اور ڈیڑھ سو پونڈ جو اس سے اوپر ہے اُس کا کوئی دو ہزار روپیہ بن جاتا ہے۔پھر کچھ رقوم پاکستانی جماعتوں کی طرف سے بھی خزانہ میں آئی ہیں۔مگر وہ اُسی وقت استعمال ہوسکیں گی جب گورنمنٹ ان کے بدلہ میں ہمیں پونڈ دے گی۔بہر حال ایک رقم تو جمع ہی ہو گئی ہے جس سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔۔پس اللہ تعالیٰ اپنے زندہ ہونے کا ثبوت ہمیشہ دیتا چلا آیا ہے اور قیامت تک دیتا چلاتی جائے گا اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہماری جماعت میں مخلصوں کا گروہ موجود رہے گا۔اللہ تعالیٰ کے فضل دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ فضل ہوتے ہیں جو جماعتی طور پر نازل ہوتے ہیں۔اور ایک وہ فضل ہوتے ہیں جو افراد پر نازل ہوتے ہیں۔افراد کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے فضل اُس وقت تک نازل ہوتے رہتے ہیں جب تک مخلص وجود دنیا میں قائم رہتے ہیں اور جماعتی طور پر اُس کے فضل اُس وقت تک نازل ہوتے رہتے ہیں جب تک افراد کی اکثریت کم سے کم ادنی درجہ اخلاص کا قائم رکھتی ہے۔جب کسی جماعت کی اکثریت اخلاص کا ادنی درجہ قائم رکھتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل اُس پر نازل کرتا رہتا ہے اور جب بعض افراد اپنے اخلاص کی وجہ سے خاص درجہ حاصل کر لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن پر بھی فضل نازل کرتا ہے اور اُن کی خاطر ساری جماعت پر بھی فضل نازل کرتا ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا چلا جاتا ہے۔(الفضل 13 جولائی 1956ء)