خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 245

$1956 245 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ وہ ایسی اچھی باتوں کی کیوں مخالفت کرتے ہیں۔اسی طرح زیکو سلو یکیا کا ایک نمائندہ مجھے زیورک میں ملا اور کہنے لگا کہ میں احمدی ہونا چاہتا ہوں۔میں نے کہا جلدی نہ کرو۔پہلے مولویوں کی باتیں سن لو ایسا نہ ہو کہ بعد میں ان کی باتیں سن کر کہنے لگ جاؤ کہ اب میں مرتدی ہونا چاہتا ہوں۔پھر میں نے اُسے اختلافات بتائے اور کہا کہ ہم حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں اور وہ انہیں آسمان پر زندہ سمجھتے ہیں۔ہم قرآن کی کسی آیت کو منسوخ نہیں سمجھتے مگر وہ کئی آیات کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔اسی طرح ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت کے لیے تلوار کی ضرورت نہیں۔مگر وہ جہاد کا یہی مفہوم سمجھتے ہیں کہ تلوار کے ساتھ غیر مسلموں کی گردنیں کاٹ دی جائیں۔وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ آپ کیا باتیں کر رہے ہیں۔ہمارے ملک کے لوگ پہلے ہی ان باتوں کو مانتے ہیں۔ہمارے ملک میں تعلیم زیادہ ہے۔اس لیے کوئی شخص بھی ایسا نہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ سمجھتا ہو۔پھر ہمارے ملک پر ٹیٹو کی حکومت ہے۔اگر ہم لوگوں کو یہ مسئلہ بتا ئیں گے کہ غیر مسلموں کو قتل کرنا جائز ہے تو ٹیٹو پہلے ہماری گردنیں کاٹے گا اور کہے گا کہ تمہیں تو جب تلوار ملے گی دیکھائی جائے گا پہلے میں تمہاری گردنیں اُڑاتا ہوں۔ہماری عقل ماری ہوئی ہے کہ ہم اس مسئلہ کو تسلیم کریں۔باقی رہا قرآن میں منسوخی کا سوال، سو یہ بات بھی بالکل واضح ہے۔اگر مان لیا لایا جائے کہ قرآن میں بعض منسوخ آیات ہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ سارا قرآن ہی قابلِ اعتبار نہیں۔ہم ایسے بیوقوف نہیں کہ ان باتوں کو مان لیں۔آپ بیشک تسلی رکھیں مولویوں کا نہ ہم پر اثر ہو سکتا ہے اور نہ میرے ملک کے دوسرے لوگوں پر۔آپ بیشک لٹریچر بھیجیں ہمارے نوجوان ان مسائل کو خوش آمدید کہیں گے اور وہ خوش ہوں گے کہ آپ نے ان کو گمراہی سے بچا لیا۔غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے غیر ملکوں میں اسلام کے پھیلنے کے سامان پیدا ہو رہے ہیں اور چند ممالک تو ایسے نظر آ رہے ہیں کہ اگر ان میں صحیح طور پر تبلیغ کی جائے تو وہ لوگ عیسائیت کو چھوڑ کر بہت جلد اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔کیونکہ اُن کے دلوں میں خواہش پیدا ہو رہی ہے کہ اسلام کی تعلیم اُن تک پہنچے اور وہ اسے قبول کریں۔بیشک سپین کی گورنمنٹ