خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 238

$1956 238 خطبات محمود جلد نمبر 37 نہیں ایک بڑی رقم جمع کر کے اُن کو دی تھی اور میں سمجھتا تھا کہ اُس روپیہ سے دو سال تک مسجدیں بھی بن جائیں گی اور بیرونی ممالک کے مبلغین کا خرچ بھی نکل آئے گا۔اس سال کا زچ ہم گورنمنٹ سے لے چکے ہیں۔پس میں سمجھتا تھا کہ یہ اتنی بڑی رقم ہمارے پاس محفوظ ہے کہ اس میں سے مبلغین کا خرچ بھی نکل آئے گا اور بیرونی ممالک میں مساجد بھی بن جائیں گی۔مگر جب میں نے وکیل المال کو بلایا تو مجھے معلوم ہوا کہ بجائے کئی ہزار پونڈ موجود ہونے کے جو میں نے اُن کو اکٹھے کر کے دیئے تھے اب صرف پینتیس پونڈ اُن کے پاس باقی ہیں اور چھ سو پونڈ ماہوار ہمارا بیرونی مشنوں کا خرچ ہے۔اس کا مجھے ایسا صدمہ ہوا کہ معاً میرے حافظہ پر اثر پڑ گیا اور مجھے ہر چیز بھولنے لگ گئی۔اور ابھی مجھے معلوم نہیں کہ بیماری نے کیا شکل اختیار کر لی تھی کیونکہ گھر میں میں جس سے بھی پوچھتا ہوں وہ کہتا ہے آپ کو بتانا نہیں کیونکہ اس سے آپ کی بیماری بڑھ جائے گی حالانکہ یہ بیوقوفی کی بات ہے۔وہ اتنا نہیں سمجھتے کہ جب وہ مجھے بتائیں گے نہیں تو اس سے مجھے اور گھبراہٹ ہو گی کہ معلوم نہیں مجھے کیا و گیا تھا۔بہر حال اس وجہ سے مجھ پر بیماری کا صدمہ ہوا اور وہ حملہ اتنا شدید تھا کہ پانچ دن تک میں کوئی کام نہیں کر سکا۔پچھلے جمعہ کو اس کا حملہ ہوا تھا اور آج پھر جمعہ ہے۔گویا سات دن گزر چکے ہیں۔مگر چونکہ دودن سے میں نے پھر ترجمہ قرآن کا کام شروع کر دیا ہے اس لیے پانچ دن ایسے گزرے ہیں کہ جن میں میں بالکل کام نہیں کر سکا اور بہت آہستہ آہستہ اس کا اثر دور ہوا۔اب بھی جب خیال آتا ہے کہ پینتیس پونڈ میں سارا سال کس طرح گزرے گا، ہمارا تو ماہوار خرچ ہی چھ سو پاؤنڈ ہے تو دل کانپنے لگتا ہے اور طبیعت میں سخت اضطرار جاتا ہے۔یہ محض تحریک جدید کے افسروں کی بیوقوفی تھی کہ وہ روپیہ خرچ کرتے چلے گئے ا انہوں نے یہ نہ سوچا کہ آئندہ کیا ہو گا۔آج ہی وکیل المال کی پیٹھی آئی ہے کہ ہم ان ان مقامات پر خرچ کیا ہے۔بتائیے اس میں کونسا خرچ ناجائز ہے۔حالانکہ اصل اعتراض یہ ہے کہ تم نے اتنے دنوں میں اور آمد کیوں نہ پیدا کی اور کیوں تمہیں یہ خیال نہ آیا کہ ہمیں آئندہ بھی اخراجات کی ضرورت ہوگی اور ہمیں اس کے لیے ابھی سے کوئی تدبیر اختیار روپیه کرنی چاہیے۔یہ سیدھی بات ہے کہ جو خرچ ہوتا ہے وہ تو بہر حال ہو گا مگر یہ کونسی عقل۔ہے