خطبات محمود (جلد 37) — Page 235
1956ء 235 خطبات محمود جلد نمبر 37 آپس میں تقسیم کیا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ کس کی دعا سے زیادہ مریض شفایاب ہوتے ہیں۔ بہر حال اس طریق کو جاری رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے تا کہ ہمیشہ اسلام کی زندگی کا ثبوت مہیا ہوتا رہے اور ہمارے نوجوان اس بات پر فخر کر سکیں کہ ہمارے ذریعہ سے پہلے انبیاء کی روحانیت دنیا میں زندہ ہو رہی ہے اور ہم وہ بلب ہیں جن سے بجلی روشن ہوتی ہے۔ خطبہ ثانیہ میں حضور نے فرمایا: نماز کے بعد میں چند جنازے پڑھاؤں گا۔ پہلا جنازہ نعیمہ بیگم صاحبہ اہلیہ میر حمید اللہ صاحب برج انسپکٹر کراچی کا ہے۔ یہ خاتون اپنے اندر چند خصوصیتیں رکھتی تھیں۔ ایک تو یہ کہ جب میں پہلی دفعہ ولایت سے واپس آیا تو میں نے اپنی بیوی امتہ الحی مرحومہ کی یادگار میں عورتوں کے لیے ایک مدرسہ جاری کیا جس میں میں بھی پڑھاتا تھا، مولوی شیر علی صاحب بھی پڑھاتے تھے، سید ولی اللہ شاہ صاحب بھی پڑھاتے تھے اور بعض اور دوست بھی پڑھاتے تھے۔ اس مدرسہ میں نعیمہ بیگم صاحبہ نے بھی پڑھا اور اس کا ان پر اتنا اثر ہوا کہ برابر وفات تک وہ عورتوں کو قرآن وغیرہ پڑھاتی رہیں۔ برابر وفات تک وہ عورتوں کو قرآن وغیرہ بڑھاتی ر ان کی وفات بھی اسی حالت میں ہوئی۔ چنانچہ کوئٹہ میں وہ قرآن کریم کا درس دینے لگیں کہ اُن ن کریم کا درس دیتے ہیں کا ہارٹ فیل ہو گیا اور وہ فوت ہو گئیں۔ دوسری خصوصیت ان کی یہ تھی کہ عبدالشکور کنڑے جب جرمنی سے آئے تھے مجھے خیال آیا کہ اُن کا کہیں رشتہ کر دیا جائے ۔ لوگ عموماً غیر ملکی لوگوں کو رشتہ دینے سے گھبراتے ہیں لیکن جب میں نے میر حمید اللہ صاحب کو اس کے متعلق کہلا بھیجا تو انہوں نے کہا میں اپنی بیوی سے مشورہ کر کے آپ کو اطلاع دوں گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی بیوی سے ذکر کیا۔ ان کی بیوی کہنے لگیں کہ ہماری اس سے زیادہ خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہماری لڑکی سلسلہ کے ایک مبلغ سے بیاہی جائے۔ چنانچہ انہوں نے رشتہ کر دیا۔ اس وقت وہ لڑکی شکاگو میں ہے اور وہیں اُسے اپنی والدہ کی وفات کی اطلاع پہنچی ہے۔ دوسرا جنازه سید محمود شاہ صاحب کلانوری کا ہے۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہ دوست جن سے صحابی تھے اور 1907ء میں انہوں نے بیعت کی تھی۔ غالباً حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے امرتسر میں الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی انگوٹھی بنوائی تھی