خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 221

$1956 221 خطبات محمود جلد نمبر 37 اس سے کہیں زیادہ فضل نازل ہونے شروع ہو جائیں جو اسحاق کی نسل پر نازل ہوئے ہیں۔اگر ایسا ہو جائے تو جس طاقت پر آج عیسائی ناچ رہے ہیں وہ بالکل ختم ہو جائے۔کہتے ہیں کوئی مسافر کسی شہر میں آیا اور ایک آدمی کے پاس مہمان ٹھہرا۔گھر کے لوگوں نے اُس سے کہا کہ ہم آپ سے ایک مشورہ لینا چاہتے ہیں۔ہمارے گھر میں ایک چوہا ہے جو ، کسی چیز کو نہیں چھوڑتا۔ہم چھینکے پر بھی رکھتے ہیں اور اُسے چھت کے ساتھ لٹکا دیتے ہیں تو وہ گود کر وہاں پہنچ جاتا ہے۔اگر ڈھک کر رکھیں تو وہ کسی نہ کسی طرح ڈھکنے کے نیچے پہنچ جاتا ہے اور اگر مارو تو اُسے چوٹ نہیں لگتی۔مسافر کہنے لگا اُس کے سوراخ کو کھود میں اندر سے ضرور روپیہ نکلے گا۔کیونکہ روپیہ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے طاقت پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے سوراخ کھودا تو اُس میں سے اشرفیوں کی ایک تحصیلی نکلی جسے وہ کہیں سے کھینچ کر اندر لے گیا تھا۔انہوں نے وہ تھیلی اپنے پاس رکھ لی۔اس کے بعد چوہا نکلا اور اُس نے چاہا کہ وہ گود کر چھینکے پر پہنچ جائے مگر ذرا اُچھلے تو زمین پر گر جائے۔اسی طرح عیسائی دنیا جو آج طاقت پکڑ رہی ہے اس کے پیچھے ابراہیمی وعدے ہیں جو الحلق کی نسل سے پورے ہوئے ہیں۔اس کا علاج یہی ہے کہ ہم یہ سونے کی تحصیلی نکال لیں اور درود پڑھ پڑھ کر اسحاق کی نسل کے ساتھ تعلق رکھنے والے وعدے اسمعیل کی نسل کی طرف لے آئیں۔اس کے نتیجہ میں یہ چوہا اتنا کمزور ہو جائے گا کہ ایک فٹ بھی نہیں گود سکے گا اور اسمعیلی نسل جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع شامل ہیں انہیں طاقت مل جائے گی اور وہ ایسے ایسے عظیم الشان کام کرنے لگ جائیں گے جو عیسائیت بھی نہیں کر سکی۔پس یہ دن ایسے ہیں جن میں کثرت سے درود پڑھنا چاہیے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا تعالی کی سلامتیوں اور برکتوں اور رحمتوں کا نزول مانگنا چاہیے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئیاں صرف ایک بیٹے کے لیے نہیں تھیں بلکہ دونوں بیٹوں کے لیے تھیں۔ان کی اولاد میں اسحاق بھی تھے جن کی روحانی اور جسمانی اولاد میں عیسائی اور یہودی پیدا ہوئے لیکن ان کی اولاد میں اسماعیل بھی تھے۔اگر وہ برکتیں ادھر منتقل ہو جائیں اور ان کا راستہ بند ہو جائے تو وہ ساری برکتیں جن وجہ سے وہ اپنی شان دکھا رہے ہیں ختم ہو جائیں اور اس چوہے کی طرح جس کے۔