خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 10

10 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 جو بعد میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ہو کر فوت ہوئے ہیں۔وہ ڈبل ایم۔اے تھے۔انہوں نے ای۔اے سی کے لیے کوشش کی اور جب انہیں اس میں کامیابی کی امید ہوئی تو وہ اپنی والدہ ان کے پاس گئے اور اُسے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں ای۔اے سی ہو جاؤں۔والدہ نے کہا نہ بیٹا! جب سے تم نے ہوش سنبھالا ہے میری یہی خواہش رہی ہے کہ تم تھانیدار ہو جاؤ۔وہ بھی بڑے سعید تھے انہوں نے پولیس میں درخواست دی اور تھانیدار ہو گئے۔وہ مالی لحاظ سے اکثر بڑی تکلیف میں رہتے تھے اور جب کبھی وہ اس کی شکایت کرتے میں انہیں یہی کہتا ہے کہ آپ اپنے شوق کی وجہ سے پولیس میں ملازم ہوئے تھے اب ان تکالیف کو برداشت کریں۔آخر میں خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور وہ ڈی۔ایس۔پی ہو گئے۔وہ لاہور کے ضلع سے ہی ریٹائر ہوئے تھے۔ریٹائرمنٹ کے وقت وہ قصور میں مقرر تھے۔غرض خدا تعالیٰ نے دنیا میں مختلف قسم کے پیشے بنائے ہیں جن میں سے ایک ملازمت بھی ہے لیکن ملازمت میں ترقیات بہت محدود ہوتی ہیں۔دوسرے پیشوں میں ترقی کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔مثلاً تجارت ہے اسے چھوٹے پیمانہ سے بھی شروع کیا جائے تب بھی اس میں ترقی کے بہت زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شروع شروع میں تکلیف ہوتی ہے لیکن آخر ایک وقت آتا ہے جب تجارت بڑھ جاتی ہے اور تکلیف کی بجائے کشائش اور فراوانی میسر آ جاتی ہے۔پس جماعت کے دوستوں کو صرف نوکریوں کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے بلکہ تجارت کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے۔ہمارے تعلیم یافتہ طبقہ کو چھوٹی چھوٹی تجارتوں سے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ ان چھوٹی چھوٹی تجارتوں سے ہی ترقی کر کے انسان بڑی تجارتوں کا مالک بن جاتا ہے۔لارڈ نفیلڈ 2 کو لے لو اس نے شروع شروع میں سائیکل مرمت کرنے کی معمولی سی دکان کھولی تھی۔پھر اس سے ترقی کی اور بعد میں ”لور پس کار نکالی اور ایک وقت ایسا آیا کہ اس کی مالی حالت اتنی مضبوط ہو گئی کہ پچھلی جنگِ عظیم میں اس نے حکومت کو دولاکھ پونڈ بطور امداد دیئے حالانکہ شروع شروع میں اس نے سائیکل مرمت کرنے کی ایک معمولی سی دکان کھولی تھی۔