خطبات محمود (جلد 37) — Page 213
1956ء 213 خطبات محمود جلد نمبر 37 اَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَهَا 5 یعنی علم اور حکمت کی ہر بات مسلمان کی کھوئی ہوئی چیز ہے وہ جہاں سے بھی ملے اُسے لے لینی چاہیے۔ یعنی جو بھی اچھی تعلیم ابراہیم کے صحف میں پائی جاتی ہے یا موسی کی کتاب میں پائی جاتی ہے یا داؤد کے اقوال میں پائی جاتی ہے یا مسیح کے اقوال میں پائی جاتی ہے در حقیقت ظلی پر تو ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مال کا ۔ پس وہ مسلمان کا مال ہے اور وہ جہاں بھی ملے اسے لے لینا چاہیے۔ اگر کسی کی بکری گم ہو جائے اور وہ اُسے جنگل میں مل جائے تو کیا کوئی شخص ہے جو اسے چھوڑ دے؟ وہ فوراً اسے کان سے پکڑ کر اپنے گھر میں لے آئے گا کیونکہ وہ اُس کا مال ہے۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ ہر اچھی بات جو کسی مذہب میں پائی جاتی ہے اصل میں وہ تمہاری ہے۔ وہ کسی غیر کی چیز نہیں بلکہ تمہاری اپنی کھوئی ہوئی چیز ہے اور تمہارا فرض ہے کہ تمہیں جہاں بھی کوئی ایسی چیز ملے اُسے فوراً لے لو۔ روزوں کے متعلق بھی گو قرآن کریم سے پتا لگتا ہے کہ سارے نبیوں کو اس کا حکم دیا گیا تھا مگر در حقیقت پہلے نبیوں کو یہ حکم اس لیے ملا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم ملنے والا تھا۔ پس یہ بھی محمدی مال ہے اور مسلمانوں کا فرض قرار دیا گیا ہے کہ انہیں جو بھی اچھی چیز ملے خواہ یہودیت میں ملے یا عیسائیت میں ملے، چین میں ملے یا جاپان میں ملے وہ اسے لے لیا کریں۔ کیونکہ اصل میں وہ مال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت کا ہے۔ پس ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ ان دنوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھائیں، زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کریں اور زیادہ سے زیادہ اس کی برکات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ الفضل 9 مئی 1956 ء ) 1 : بخاری کتاب الصوم باب هل يقال رمضان او شهر رمضان 2 : متى باب 17 آیت 21 184 : 3 : البقرة 4 : کنز العمال كتاب الفضائل في قسم الاقوال حديث نمبر 1740 5 : ترندی ابواب العلم باب ما جاء في فضل الفقه على العبادة